Surah Al Imran Ayat 189 (3:189)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 189
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و لله ملك السموت و الارض: اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔}اس ایت میں ان گستاخوں کا رد کیا گیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ عزوجل فقیر ہے۔ ان کے رد میں فرمایا گیا کہ جو زمین و اسمان کے دائرے میں انے والی ہر چیز کا مالک ہے ا س کی طرف فقر کی نسبت کس طرح کی جا سکتی ہے۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۸۹ ۱ / ۳۳۵) اللہ تعالی کی شان: یہاں ہم اللہ تعالی کی عظمت و شان سے متعلق ایک حدیث قدسی ذکر کرتے ہیں جس سے ان گستاخوں کی جہالت اور اللہ تعالی کی شان مزید ظاہر ہوتی ہے چنانچہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔اے میرے بندو! جسے میں ہدایت دوں اس کے علاوہ تم سب گمراہ ہواس لئے تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو!جسے میں کھلاوں اس کے سوا تم سب بھوکے ہوتو تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاوں گا۔ اے میرے بندو!جسے میں لباس پہناوں اس کے علاوہ تم سب بے لباس ہو لہذا تم مجھ سے لبا س مانگو میں تمہیں لباس پہناوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب رات دن گناہ کرتے ہو اور میں گناہ بخشتا ہوں تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو۔ اے میرے بندو! تمہارے پہلے اور اخریتمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میرے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے اور اگر تمہارے پہلے اور اخریتمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میرے ملک سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! تمہارے پہلے اور اخری تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے ) ا س میں کمی ہوتی ہے۔اے میرے بندو!یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا ء دوں گا تو جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیر کے سوا کوئی چیز (جیسے افت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔(مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب تحریم الظلم ص۱۳۹۳ الحدیث: ۵۵(۲۵۷۷))