Surah Al Imran Ayat 188 (3:188)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 188
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی ایسے کاموں پر تعریف کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں ، انہیں ہرگز عذاب سے دور نہ سمجھو اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو ایسوں کو ہر گز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا: ہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔ } یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور نادان اورجاہل ہونے کے باوجود یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے ۔ (خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۸۸ ۱ / ۳۳۴) خود پسندی اور حب جاہ کی مذمت : اس آیت میں خود پسندی کرنے والوں کے لئے وعید ہے اوران کے لئے جوحب جاہ یعنی عزت تعریف شہرت کے حصول کی تمنا میں مبتلا ہیں۔ جب کسی شخص کے دل میں یہ ارزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو سب میرے کمال کے معترف ہوں مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے عالم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی معمار قوم کہا جائے نجات دہندہ سمجھا جائے محسن قوم قرار دیا جائے میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہوملاقات پرتپاک انداز میں کی جائے سلام جھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پرغور کر لے کہ کہیں وہ حب جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکااگر ایسا ہو تو اس ایت سے سبق حاصل کرتے ہوئے فورا سے پیشتر اس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں منافقت کی زیادتی قلبی نورانیت سے محرومی دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی ذلت و رسوائی کا سامنا اخروی لذت سے محرومی قلبی سکون کی بربادی اور دولت اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے لہذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی تعریف پسندی کی مذمت منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ سے متعلق چند احادیث اور بزرگان دین کے احوال و اقوال ذکر کرتے ہیں چنانچہ حضرت جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالی اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری کتاب الرقاق باب الریاء والسمعۃ ۴ / ۲۴۷ الحدیث: ۶۴۹۹) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے ۔(ترمذی کتاب الزہد ۴۳-باب ۴ / ۱۶۶ الحدیث: ۲۳۸۳) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ا للہ تعالی عنہا سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب باب اللام ۲ / ۱۹۳ الحدیث: ۵۰۶۴) حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال حرف العین ۲ / ۲۰۵ الجزء الثالث الحدیث: ۷۶۶۶) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ اپ کی تعریف کرتے تو اپ دعا مانگتے :یااللہ! عزوجل مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔ اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عزوجل میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ ص۲۴۱-۲۴۲) حضرت عمر بن عبد العزیزرضی اللہ تعالی عنہ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عزوجل میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ ص۲۳۹-۲۴۰) حضرت بشر حافی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو شہرت کا طالب ہو اور اس کا دین برباد نہ ہوا ہو اور ا س کے حصے میں رسوائی نہ ائی ہو۔(کیمیائے سعادت رکن سوم اصل ہفتم اندر علاج دوستی جاہ وحشمت ۲ / ۶۵۹) حضرت محمد بن واسع رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنے زمانے کے عبادت گزاروں سے فرماتے تھے: تم پر افسوس ہے تمہارے اعمال کم ہونے کے باوجود ان میں خود پسندی داخل ہو گئی اور تم سے پہلے لوگ اپنے اعمال کی کثرت کے باوجود ان پر تکبر نہیں کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! پہلے لوگوں کی عبادت کو دیکھا جائے تو (اس کے مقابلے میں )تم محض کھیلنے والے ہو ۔(تنبیہ المغترین الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ ص۲۴۲)