Surah Al Imran Ayat 32 (3:32)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرمادو کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھراگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کاپھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔
Tafseer (Urdu)
{اطیعوا الله و الرسول: اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ ایت ’’قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی یحببكم الله‘‘ نازل ہوئی تو عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) اپنی اطاعت کو اللہ تعالی کی اطاعت کی طرح قرار دے رہے ہیں اور یہ حکم کر رہے ہیں کہ ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کی اس پر یہ ایت نازل ہوئی۔(البحر المحیط ال عمران تحت الایۃ: ۳۲ ۲ / ۴۴۹) اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان سے فرما دیں کہ اللہ تعالی نے میری اطاعت اس لئے واجب کی کہ میں اس کی طرف سے رسول ہوں اور چونکہ اللہ تعالی کے احکام لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ اس کے رسول ہی ہیں اس لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اطاعت سے منہ پھیریں تو انہیں اللہ تعالی کی محبت حاصل نہ ہو گی اور اللہ تعالی انہیں سزادے گا۔(تفسیر کبیر ال عمران تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۱۹۸ جلالین ال عمران تحت الایۃ: ۳۲ ص۴۹ ملتقطا) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کی اہمیت: تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت ہی محبت الہی عزوجل کی دلیل ہے اور اسی پر نجات کا دارو مدار ہے۔ اللہ تعالی نے جنت کاحصول اپنی خوشنودی اور قرب کو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب کسی کو رضا و قرب الہی ملے گا تو محبوب رب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی غلامی کے صدقے ملے گا ورنہ دنیا جہاں کے سارے اعمال جمع کرکے لے ائے اگر اس میں حقیقی اطاعت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم موجود نہ ہوگی وہ بارگاہ الہی عزوجل میں یقینا قطعا مردود ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی مگر جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انکار کون کرے گا ارشاد فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۴ / ۴۹۹ الحدیث: ۷۲۸۰) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک میری مثال اور اس کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا گیا ہے اس شخص جیسی ہے جس نے اپنی قوم کے پاس اکر کہا: اے قوم! میں نے اپنی انکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے میں تمہیں واضح طور پر اس سے ڈرانے والا ہوں لہذا اپنے اپ کو بچا لو۔ چنانچہ اس کی قوم کے ایک گروہ نے ا س کی بات مانی اور راتوں رات نکل کر پناہ گاہ میں جا چھپے اور ہلاکت سے بچ گئے جبکہ ایک گروہ نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے مقامات پر ہی رہےصبح سویرے لشکر نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں ہلاک کر کے غارت گری کا بازار گرم کیا۔پس یہ مثال ہے اس کی جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لے کر ایا ہوں اس کی پیروی کی اور اس شخص کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر ایا ہوں اسے جھٹلایا۔(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۴ / ۵۰۰ الحدیث: ۷۲۸۳) حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سن لو !عنقریب ایک ادمی کے پاس میری حدیث پہنچے گی اور وہ اپنی مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب(کافی ہے) ہم جو چیزا س میں حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور اسے حرام سمجھیں گے جسے قران میں حرام پائیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھی اسی طرح حرام کیا ہے جس طرح اللہ تعالی نے حرام کیا ہے۔(ترمذی کتاب العلم باب ما نہی عنہ انہ یقال عند حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۴ / ۳۰۲ الحدیث: ۲۶۷۳) کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں