Surah Al Imran Ayat 79 (3:79)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰـكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکسی آدمی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ اسے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کرے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری عبادت کرنے والے بن جاؤ بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اللہ والے ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور اس لئے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے ہوجاؤاس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{ما كان لبشر: کسی ادمی کو یہ حق نہیں۔} یہاں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شان کا بیان اور ان پر ہونے والے اعتراض کا جواب ہے جیسا کہ ایت کے شان نزول سے واضح ہے۔ فرمایا گیا کہ’’ کسی ادمی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ تعالی اسے کمال علم و عمل عطا فرمائے اور اسے گناہوں سے معصوم بنائے اور وہ پھر لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دے ۔ یہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے ناممکن ہے اور ان کی طرف ایسی نسبت بہتان ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تو اللہ تعالی کی عبادت اور ربانی یعنی اللہ والے بننے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس ایت کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ نجران کے عیسائیوں نے کہا کہ ’’ہمیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا ہے کہ ہم انہیں رب مانیں۔ تو اس آیت میں اللہ تعالی نے ان کے ا س قول کی تکذیب کی اور بتایا کہ انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام کی شان سے ایسا کہنا ممکن ہی نہیں۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۷۹ ۱ / ۲۶۶) جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ ابو رافع یہودی اور ایک عیسائی نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا: اے محمد! (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اور آپ کو رب مانیں۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کی پناہ کہ میں غیراللہ کی عبادت کا حکم کروں۔ نہ مجھے اللہ عزوجل نے اس کا حکم دیا اورنہ مجھے اس لیے بھیجاہے۔(بیضاوی ال عمران تحت الایۃ: ۷۹ ۲ / ۵۶) ایت میں ربانی کا لفظ مذکور ہے۔ ربانی کے معنی نہایت دیندار عالم باعمل اورفقیہ کے ہیں۔ (تفسیر قرطبی ال عمران تحت الایۃ: ۷۹ ۲ / ۹۳ الجزء الرابع) اس سے ثابت ہوا کہ علم و تعلیم کا ثمرہ یہ ہونا چاہیے کہ آدمی اللہ والا ہو جائے جسے علم سے یہ فائدہ نہ ہو اس کا علم ضائع اور بے کار ہے۔