Surah Al Imran Ayat 93 (3:93)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 93
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمام کھانے بنی اسرائیل کے لئے حلال تھے سوائے ان کھانوں کے جو یعقوب نے تورات نازل کئے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام کرلئے تھے۔ تم فرماؤ، تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{كل الطعام كان حلا لبنی اسرآءیل : تمام کھانے بنی اسرائیل کے لئے حلال تھے۔}شان نزول: مدینہ منورہ کے یہودیوں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اعتراض کیا کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر خیال کرتے ہیں حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اونٹ کا گوشت اور دودھ نہیں کھاتے تھے جبکہ آپ کھاتے ہیں تو آپ ملت ابراہیمی پر کیسے ہوئے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر حلال تھیں۔ یہودی کہنے لگے کہ یہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی حرام تھیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی حرام تھیں اور ہم تک حرام ہی چلی آئیں۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس میں بتایا گیا کہ یہودیوں کا یہ دعوی غلط ہے بلکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیہم الصلوۃ والسلام پر حلال تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی سبب سے ان کو اپنے اوپر حرام فرمایا اور یہ حرمت ان کی اولاد میں باقی رہی ۔یہودیوں نے اس کا انکار کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تورات میں یہ مضمون موجود ہے اگر تمہیں اس سے انکار ہے تو تورات لاو اور اس میں سے نکال کر دکھا دو کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر حرام تھیں۔ اس پر یہودیوں کو اپنی ذلت و رسوائی کا خوف ہوا اور وہ تورات نہ لاسکے ان کاجھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۹۳ ۱ / ۲۷۳) اس سے معلوم ہوا کہ احکام کا منسوخ ہونا ہمیشہ سے ہوتا ارہا ہے۔ لہذا قران کی بعض ایات کے منسوخ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس پر تفصیلی کلام سورہ بقرہ کی ایت 106میں گزر چکا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا علم شریف اللہ تعالی کی خاص عطا سے ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تورات و انجیل سے خبردار ہیں اور اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو غیبی علوم عطا فرمائے ہیں۔