Surah Ar Rum Ayat 15 (30:15)
The Romans · Juz 21 · Makki
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو و ہ جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو وہ (جنت کے) باغ میں خوش رکھے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے باغ کی کیاری میں اُن کی خاطر داری ہو گی۔
Tafseer (Urdu)
{فاما الذین امنوا: تو و ہ جو ایمان لائے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں مومن اور کافر کے الگ الگ ہونے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔اس ایت میں فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے توجنت کے باغات میں ان کا اکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے ۔ایک قول یہ ہے کہ یہ خاطر داری جنتی نعمتوں کے ساتھ ہوگی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ خاطر داری سے مراد سماع ہے کہ انہیں طرب انگیز یعنی شادمانی کے نغمات سنائے جائیں گے جواللہ تبارک و تعالی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے۔(مدارک الروم تحت الایۃ: ۱۵ ص۹۰۴ خازن الروم تحت الایۃ: ۱۵ ۳ / ۴۶۰ روح البیان الروم تحت الایۃ: ۱۵ ۷ / ۱۳ ملتقطا) جنت میں شادمانی کے نغمات کن لوگوں کو سنائے جائیں گے جولوگ دنیا میں گانے باجے سننے سے بچنے والے اورلہو لعب اور الات موسیقی سے دور رہنے والے ہوں گے توان خوش نصیب حضرات کوجنت میں شادمانی کے نغمات سنائے جائیں گے جیساکہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب قیامت کا دن ائے گا تو اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا’’وہ لوگ کہاں ہیں جو اپنے کانوں اور اپنی انکھوں کو شیطان کے الات موسیقی سے بچایا کرتے تھےانہیں الگ کر دوچنانچہ انہیں مشک اور عنبر کی کتابوں میں الگ کر دیا جائے گا۔پھر اللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا ’’انہیں میری تسبیح تحمید اور تہلیل سناو تو وہ فرشتے ایسی اوازوں سے اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں گے جیسی سننے والوں نے نہ سنی ہو گی۔( در منثور الروم تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۴۸۷) {و اما الذین كفروا: اور جو کافر ہوئے۔} یعنی جو کافر ہوئے اور انہوں نے ہماری ایتوں اور اخرت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب و جزا کا انکار کیا تووہ عذاب میں داخل کر دئیے جائیں گے اور اس عذاب میں نہ تخفیف ہو گی اور نہ ہی وہ اس سے کبھی نکلیں گے ۔( مدارک الروم تحت الایۃ: ۱۶ ص۹۰۴)