Surah Ar Rum Ayat 3 (30:3)
The Romans · Juz 21 · Makki
فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariقریب کی زمین میں اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔
Tafseer (Urdu)
{فی ادنى الارض: قریب کی زمین میں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کے ابتدائی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ شام کی اس سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے جو فارس سے قریب تر ہے اور رومی اپنی شکست کے بعد عنقریب چند سالوں میں ایرانیوں پرغالب اجائیں گے جن کی حد 9 سال ہے۔مشہور روایت کے مطابق رومیوں کے مغلوب ہونے کے سات سال بعد ہی رومی ایرانیوں پر غالب ا گئے تھے ۔( خازن الروم تحت الایۃ: ۳-۴ ۳ / ۴۵۸ تفسیر قرطبی الروم تحت الایۃ: ۴ ۷ / ۴ الجزء الرابع عشر ملتقطا) رومیوں کے غالب انے کی مدت مبہم رکھنے کی حکمت: یہاں ایت میں رومیوں کے غالب انے کی معین مدت ذکرنہیں کی گئیاس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ایت میں رومیوں کے غالب انے کی مدت کو ا س لئے مبہم رکھا گیا تاکہ کفار ہر وقت رعب میں رہیں اور ان کے دلوں میں خوف بیٹھا رہے۔( صاوی الروم تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۱۵۷۵) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو رومیوں کے غالب انے کی مدت معلوم تھی: یاد رہے کہ ایت میں رومیوں کے غالب انے کی معین مدت ذکر نہ کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بھی اس مدت کا علم نہیں دیاگیا تھا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وہ مدت بتا دی گئی تھی البتہ اسے ظاہر کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے اپ نے اسے ظاہر نہیں فرمایا تھا جیسا کہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالی نے رومیوں کے غالب انے کا سال مہینہ دن اور وقت بھی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بتا دیا تھا البتہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس کے اظہار کی اجازت نہ تھی۔( تفسیرکبیر الروم تحت الایۃ: ۴ ۹ / ۸۰) {لله الامر: اللہ ہی کا حکم ہے۔} یعنی رومیوں کے غلبہ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی اللہ تعالی ہی کا حکم چل رہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پہلے فارس والوں کا غلبہ ہونا اور دوبارہ رومیوں کا غالب ہوجانا یہ سب اللہ تعالی کے حکم ارادے اوراس کی قضا و قدر سے ہے کیونکہ جنگ میں جو مغلوب ہو جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے اور کمزوری کے بعد دوبارہ غالب اجانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا غلبہ اس کی اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ پہلی بار ہی مغلوب نہ ہوتا ۔( خازن الروم تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۴۵۸ صاوی الروم تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۱۵۷۵ ملتقطا) {و یومىذ یفرح المؤمنون: اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔} ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت کے ابتدائی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب رومی ایرانیوں پر غالب ائیں گے اور اللہ تعالی نے ان کے غلبے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ پورا ہو گا تو اس دن ایمان والے اللہ تعالی کی مدد سے خوش ہوں گے کہ اس نے کتابیوں کو غیر کتابیوں پر غلبہ دیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالی کی مدد سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں نے کفار کو رومیوں کے غالب انے کی جو خبر دی تھی وہ سچی ثابت ہوئی ۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق جب بدر کے دن مسلمان مشرکوں پر غالب ہوئے تو انہیں خوشی ہوئی اور اسی دن رومیوں کے غالب انے کی خبر ملنے پر بھی مسلمان خوش ہوئےاور ایک روایت کے مطابق صلح حدیبیہ کے موقع پر رومی ایرانیوں پر غالب ائے اور بیعت رضوان کے دن جب مسلمانوں کو اس کی خبر ملی تو وہ خوش ہوئے۔( مدارک الروم تحت الایۃ: ۴-۵ ص۹۰۲ خازن الروم تحت الایۃ: ۴-۵ ۳ / ۴۵۸-۴۵۹ تفسیر قرطبی الروم تحت الایۃ: ۳ ۷ / ۶ الجزء الرابع عشر ملتقطا)