Surah Ar Rum Ayat 38 (30:38)
The Romans · Juz 21 · Makki
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔ یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو رشتہ دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے اُن کے لئے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور اُنہیں کا کام بنا۔
Tafseer (Urdu)
{فات ذا القربى حقه: تو رشتے دار کو ا س کا حق دو۔} یعنی اے وہ شخص! جسے اللہ تعالی نے وسیع رزق دیاتم اپنے رشتے دار کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کر کے ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو صدقہ دے کر اور مہمان نوازی کرکے ان کے حق بھی دو۔رشتہ داروں مسکینوں اور مسافرو ں کے حقوق ادا کرنا ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو اللہ تعالی کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ تعالی سے ثواب کے طالب ہیں اور وہی لوگ اخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں ۔(مدارک الروم تحت الایۃ: ۳۸ ص۹۰۹ روح البیان الروم تحت الایۃ: ۳۸ ۷ / ۳۹ خازن الروم تحت الایۃ: ۳۸ ۳ / ۴۶۵ ملتقطا) ایت ’’فات ذا القربى حقه‘‘ سے متعلق دو باتیں : یہاں اس ایت سے متعلق دو باتیں ملاحظہ ہوں : (1)…اس آیت سے محرم رشتہ داروں کے نفقہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے (جبکہ وہ محتاج ہوں )۔(مدارک الروم تحت الایۃ: ۳۸ ص۹۰۹) (2)…اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رشتہ دارو ں سے حسن سلوک اور صدقہ و خیرات نام و نمو د اور رسم کی پابندی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالی کی رضا کے لئے کرے وہی ثواب کا مستحق ہے۔