Surah Luqman Ayat 13 (31:13)
Luqman · Juz 21 · Makki
وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! کسی کو الله کا شریک نہ کرنا، بیشک شرک یقینا بڑا ظلم ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا اے میرے بیٹے الله کا کسی کو شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قال لقمن لابنه و هو یعظه: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:} حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے کا نام انعم تھااورایک قول کے مطابق اشکم تھا ۔ انسان کا اعلی مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہو اور دوسرے کی تکمیل کرے تو حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کا کامل ہونا تو ’’اتینا لقمن الحكمة‘‘ میں بیان فرما دیا اور دوسرے کی تکمیل کرنا ’’و هو یعظه‘‘ سے ظاہر فرمایا۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے! کسی کو اللہ کا شریک نہ کرنا کیونکہ اس میں جو عبادت کا مستحق نہیں اسے مستحق عبادت کے برابر قرار دینا ہے اور عبادت کو اس کے محل کے خلاف رکھنا ہے اور یہ دونوں باتیں عظیم ظلم ہیں ۔( خازن لقمان تحت الایۃ: ۱۳ ۳ / ۴۷۰) ایت ’’و اذ قال لقمن لابنه‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے چند مسئلے معلوم ہوئے (1)… اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت کرنے میں گھر والوں اور قریب تر لوگوں کو مقدم کرنا چاہئے اور نصیحت کی ابتدا عقائد کی اصلاح سے ہونی چاہیے خصوصا انہیں اللہ تعالی کی وحدانیت کے بارے میں بتانا چاہئے اور سب سے پہلے انہیں شرک سے بچانا چاہیے کہ یہ نہایت اہم ہے۔ (2)… انسان پہلے اپنے گھر والوں کو وعظ و نصیحت کرے پھر دوسروں کو۔ (3)… نصیحت نرم الفاظ میں ہونی چاہیے۔اپ نے اسے ’’اے میرے بچے‘‘ فرما کر خطاب فرمایا۔ (4)… گزشتہ بزرگوں کی تعلیم یاد دلانا ان کے اقوال نقل کرنا سنت الہیہ ہے۔ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں : حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا میں نے بڑے پتھرلوہااورہروزنی چیزاٹھائی ہے لیکن میں نے برے پڑوسی سے بھاری چیزکوئی نہیں اٹھائی۔ میں نے ہر کڑواہٹ دیکھی ہے مگرفقرسے زیادہ کڑوی چیز نہیں دیکھی۔اے میرے بیٹے جاہل کوقاصد بناکرنہ بھیج اگرتوکسی صاحب حکمت کونہ پائے تواپناقاصد خود بن جا۔۔۔ اے میرے بیٹے جنازوں میں حاضر ہواکراورشادیوں میں نہ جایا کر کیونکہ جنازے تجھے اخرت کی یاددلاتے ہیں اورشادی تجھے دنیاکی خواہش دلاتی ہے۔ اے میرے بیٹے سیر پر سیر ہو کرنہ کھا اگر تو اس کھانے کوکتے کے سامنے پھینک دے تویہ اس سے بہترہے کہ توخود اسے کھائے ۔اے میرے بیٹے اتنامیٹھابھی نہ بن کہ تجھے نگل لیا جائے اورنہ اتناکڑواہوجاکہ تجھے باہرپھینک دیاجائے ۔( شعب الایمان الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ اثار وحکایات فی فضل الصدق۔۔۔ الخ ۴ / ۲۳۱ روایت نمبر: ۴۸۹۱)