Surah Luqman Ayat 17 (31:17)
Luqman · Juz 21 · Makki
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور تجھے جو مصیبت آئے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بیشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{یبنی اقم الصلوة: اے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ۔} اس سے پہلی ایت میں ذکر ہوا کہ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عقائد کے حوالے سے نصیحت کی اور یہاں سے ان کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو ظاہری اعمال کے حوالے سے کی اور جس کا تعلق اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے ساتھ ہے چنانچہ فرمایا گیا کہ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا:اے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ جو کہ کامل ترین عبادت ہے اور لوگوں کو اچھی بات کاحکم دے اور انہیں بری بات سے منع کر اور یہ کام کرنے کی وجہ سے تم پر جو مصیبت ائے اس پر صبر کر بیشک یہ وہ کام ہیں جنہیں کرنا لازم ہے۔(روح البیان لقمان تحت الایۃ: ۱۷ ۷ / ۸۲-۸۳ جلالین لقمان تحت الایۃ: ۱۷ ص۳۴۷ مدارک لقمان تحت الایۃ: ۱۷ ص۹۱۸ ملتقطا) ایت ’’یبنی اقم الصلوة‘‘ سے معلوم ہونے والے اہم امور: اس ایت سے 3باتیں معلوم ہوئیں (1)… نماز اچھی بات کا حکم دینا بری بات سے منع کرنا اور مصیبت پر صبرکرنا یہ ایسی عبادات ہیں جن کا تمام امتوں میں حکم تھا۔ (2)…اس میں بڑی پیاری ترتیب فرمائی گئی کہ وعظ کہنے والا عالم پہلے خود نیک عمل کرے پھر دوسروں سے کہے۔ بے عمل واعظ کا وعظ دلوں میں اثر نہیں کرتااور چونکہ اس راہ میں تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں لہذا صبر کا فرمایا گیا۔ یاد رہے کہ ہر مسلمان دین کا مبلغ ہونا چاہیے اورجو مسئلہ اسے درست معلوم ہو وہ دوسروں تک پہنچائے ۔ صرف علماء پر ہی تبلیغ لازم نہیں ہے۔ (3)…تبلیغ اور صبر کے اکٹھے بیان کرنے میں ایک اشارہ یہ ہے کہ تبلیغ میں صبر کے مراحل بہت مرتبہ پیش اتے ہیں لہذا تکالیف کی وجہ سے تبلیغ سے باز نہیں انا چاہیے۔