Surah Luqman Ayat 34 (31:34)
Luqman · Juz 21 · Makki
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک قیامت کا علم الله ہی کے پاس ہے اور وہ بارش اتارتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک الله علم والا، خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک الله کے پاس ہے قیامت کا علم اور اُتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بیشک الله جاننے والا بتانے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله عنده علم الساعة: بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔} شان نزول : یہ آیت حارث بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کا وقت دریافت کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے مجھے خبر دیجئے کہ بارش کب آئے گی اور میری عورت حاملہ ہے مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکایا لڑکی نیزیہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیاالبتہ مجھے یہ بتائیے کہ آئندہ کل کو میں کیا کروں گا نیز میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا لیکن مجھے یہ بتائیے کہ میں کہاں مروں گا اس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح البیان لقمان تحت الایۃ: ۳۴ ۷ / ۱۰۳) ایت ’’ان الله عنده علم الساعة‘‘ سے متعلق اہم کلام: اس آیت میں پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیت اللہ تعالی کے ساتھ بیان فرمائی گئی اور مخلوق کو علم غیب عطا کئے جانے کے بارے میں سورہ جن کی ایت نمبر26اور27 میں ارشاد ہوا: ’’علم الغیب فلا یظهر على غیبه احدا(۲۶) الا من ارتضى من رسول‘‘ ترجمہکنزالعرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ اس ایت سے یہ معلوم ہوا کہ علم غیب ایت میں مذکور پانچ چیزوں سے متعلق ہو یا کسی اور چیز کے بارے میںذاتی طور پر اللہ تعالی ہی جانتا ہے جبکہ اللہ تعالی کے بتادینے سے مخلوق بھی غیب جان سکتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ ذاتی علم غیب اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم کو غیب کا علم اللہ تعالی کے بتانے سے معجزہ اور کرامت کے طور پرعطا ہوتا ہے یہ اس اختصاص کے منافی نہیں جو ایت میں بیان ہوا بلکہ اس پر کثیر آیتیں اور حدیثیں دلالت کرتی ہیں بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے گا اور کہاں مرے گا ان امور کی خبریں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے بکثرت دی ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت ہیں جیسے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو فرشتوں نے حضرت اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پیدا ہونے کی خبریں دیں تو ان فرشتوں کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ ان حملوں (حمل کی جمع) میں کیا ہے اور ان حضرات کو بھی جنہیں فرشتوں نے اطلاعیں دی تھیں اور ان سب کا جاننا قرآن کریم سے ثابت ہے تواس آیت کے معنی قطعا یہی ہیں کہ اللہ تعالی کے بتائے بغیرکوئی نہیں جانتا ۔ اس کے یہ معنی مراد لینا کہ اللہ تعالی کے بتانے سے بھی کوئی نہیں جانتا محض باطل اور صدہاآیات و احادیث کے خلاف ہے ۔ نوٹ:اس ایت اور ا س جیسی دیگر ایات سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ کی 26ویں جلد میں موجود اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا رسالہ ’’الصمصام علی مشکک فی ایۃ علوم الارحام‘‘ (علوم ارحام سے تعلق رکھنے والی ایتوں سے متعلق کلام) کا مطالعہ فرمائیں ۔