Surah Al Ahzab Ayat 20 (33:20)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْاۚ-وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآىٕكُمْؕ-وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ سمجھ رہے ہیں کہ لشکر ابھی نہ گئے اور اگر وہ لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ کسی گاؤں میں ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبروں کے بارے میں پوچھ لیتے اور اگر وہ تم میں رہتے توجب بھی تھوڑے ہی لڑتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح گاؤں میں نکل کر تمہاری خبریں پوچھتے اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے۔
Tafseer (Urdu)
{یحسبون الاحزاب لم یذهبوا: وہ سمجھ رہے ہیں کہ لشکر ابھی نہ گئے۔} یعنی منافق لوگ اپنی بزدلی اور نامردی کی وجہ سے ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ کفار قریش غطفان قبیلے کے لوگ اور یہودی و غیرہ ابھی تک میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں اگرچہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ بھاگ چکے ہیں اور ان کی بے ہمتی کا یہ عالم ہے کہ اگر بالفرض کفار کے لشکر دوبارہ مدینہ منورہ پر چڑھائی کردیں تو اب کی بار ان کی ارزو یہ ہو گی کہ یہ لوگ مدینہ پاک کو ہی چھوڑ کر دیہات میں بھاگ جائیں اور مدینہ منورہ انے جانے والے لوگوں سے تمہاری ہار جیت کی خبر پوچھ لیا کریں اورخود مدینہ منورہ انے کی ہمت کبھی نہ کریں اور اگرانہیں تمہارے درمیان ہی موجود رہنا پڑتا تب بھی ان میں سے تھوڑے لوگ ہی لڑائی کرتے اور وہ بھی صرف ریا کاری یا ذلت کے ڈر سے یا عذر پیش کرنے کے لئے تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جنگ میں شریک تھے۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۲۰ ص۹۳۷ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۲۰ ۳ / ۴۹۱ ملتقطا)