Surah Al Ahzab Ayat 31 (33:31)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِۙ-وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو تم میں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے اور اچھے عمل کرے توہم اسے دوسروں سے دگنا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو تم میں فرماں بردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و من یقنت منكن لله و رسوله: اور جو تم میں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے۔} یعنی اے میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات! تم میں سے جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی فرمانبردار رہے تو اسے ہم دوسروں سے دگنا ثواب دیں گے کہ اگر اوروں کو ایک نیکی پردس گنا ثواب دیاجائے گا تو تمہیں بیس گنا کیونکہ تمام جہان کی عورتوں میں تمہیں شرف و فضیلت حاصل ہے اور تمہارے عمل میں بھی دو جہتیں ہیں ایک نیک کام کرنا دوسری رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رضا جوئی قناعت اوراچھے طرز زندگی کے ساتھ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خوش کرنا اور ہم نے اس زوجہ مطہرہ کے لئے جنت میں عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔( ابو سعود الاحزاب تحت الایۃ: ۳۱ ۴ / ۳۱۹) ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کا مقام : اس ایت سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات کو عام عورتوں پر بڑی فضیلت حاصل ہے اور انہیں ان کے نیک عمل پر دگنا اجر و ثواب دیا جاتا ہے ۔حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ چارقسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں دگنااجردیاجاتاہے ان میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی ہیں ۔( مجمع الزوائد کتاب النکاح باب فی الذی یعتق امتہ ثم یتزوجہا ۴ / ۴۷۷ الحدیث: ۷۳۵۱) عزت کی روزی در حقیقت جنت کی نعمتیں ہیں : اس ایت سے معلوم ہو اکہ حقیقی طور پر عزت کی روزی جنت کی نعمتیں ہیں ۔لہذا جو مسلمان اس روزی کو پانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’فالذین امنوا و عملوا الصلحت لهم مغفرة و رزق كریم‘‘(حج:۵۰) ترجمہ کنزالعرفان : تو جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اور قیامت قائم کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ’’لیجزی الذین امنوا و عملوا الصلحت-اولىك لهم مغفرة و رزق كریم‘‘(سبا:۴) ترجمہ کنزالعرفان: تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو بدلہ دے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں کثرت سے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے کرم سے بخشش و مغفرت اور جنت کی نعمتیں نصیب فرمائے امین۔