Surah Al Ahzab Ayat 34 (33:34)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ کی آیات اور حکمت یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں ۔ بیشک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا،خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكرن ما یتلى فی بیوتكن من ایت الله و الحكمة: اور اللہ کی ایات اور حکمت یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں ۔} اس ایت میں بھی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے خطاب فرمایا گیاکہ تمہارے گھروں میں جو قران مجید کی ایتیں نازل ہوتی ہیں ا ورتم رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جن احوال کا مشاہدہ کرتی ہو اور ان کے جن ارشادات کو سنتی ہو انہیں یاد رکھا کرو اور موقع کی مناسبت سے وعظ و نصیحت کے طور پر لوگوں کے سامنے انہیں بیان کرتی رہو۔یہاں ایت میں اللہ تعالی کی ایات سے مراد قران مجید کی ایتیں ہیں اورحکمت کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ا س سے مراد سنت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے قران کریم کے احکام اور مواعظ مراد ہیں ۔(قرطبی الاحزاب تحت الایۃ:۳۴ ۷ / ۱۳۴-۱۳۵ الجزء الرابع عشر خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۳۴ ۳ / ۴۹۹ ملتقطا) ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور احادیث کا بیان: ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے احوال کو بڑے قریب سے دیکھا اور ان کے عمومی ارشادات اور بطور خاص گھریلو زندگی سے متعلق فرامین کوانتہائی توجہ سے سنا اور انہیں امت تک پہنچانے کا فریضہ بڑی خوبی سے ادا فرما کر امت پر عظیم احسان فرمایاانہوں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جو احوال اور ارشادات امت تک پہنچائےیہاں ا س کی3 مثالیں ملاحظہ ہوں (1)…ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :جب کبھی رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ظہر سے پہلے چار سنتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں بعد میں (یعنی ظہر کے فرض پڑھنے کے بعد) پڑھ لیا کرتے تھے۔( ترمذی ابواب الصلاۃ باب منہ اخر ۱ / ۴۳۵ الحدیث: ۴۲۶) (2)…ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں : ’’جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے ’’رب قنی عذابک یوم تبعث عبادک‘‘ اے میرے رب! عزوجل تو مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کھانا کھانے پانی پینےوضو کرنےکوئی چیز لینے اور کچھ دینے کے لئے اپنا دایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے اور دیگر کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے۔( مسند امام احمد حدیث حفصۃ ام المومنین۔۔۔ الخ ۱۰ / ۱۶۷ الحدیث: ۲۶۵۲۶) (3)…ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی :میرے والد بوڑھے ہیں اور وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ’’اس بارے میں تیری کیا رائے ہے کہ اگر تیرے والد پر قرض ہوتا اور تو ان کی طرف سے قرض ادا کر دیتا تو وہ تجھ سے قبول کر لیا جاتاا س نے عرض کی :جی ہاں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تو اللہ تعالی سب سے زیادہ رحم فرمانے والاہے تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔( مسند امام احمد حدیث سودۃ بن زمعۃ رضی اللہ عنہا۱۰ / ۳۹۸ الحدیث: ۲۷۴۸۷) ایت ’’و اذكرن ما یتلى فی بیوتكن‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات: اس ایت سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)…قران مجید کی ایات اور احادیث کو یاد کرنا اور دوسروں کو یاد دلاتے رہنا چاہئے تاکہ شریعت کے احکام کا علم ہو۔ (2)… ہر مسلمان کو اپنے گھر میں قران مجید کی تلاوت اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنتوں کا تذکرہ کرتے رہنا چاہئے۔ (3)…بعض اوقات دوسروں سے بھی قران پاک کی ایات سننی چاہئیں ۔ اللہ تعالی ہمیں ان تینوں باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔