Surah Al Ahzab Ayat 7 (33:7)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ۪-وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے محبوب!یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (عہد لیا) اور ہم نے ان (سب) سے بڑا مضبوط عہد لیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ اخذنا من النبین میثاقهم: اور اے محبوب!یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ وقت یاد کرو جب ہم نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے رسالت کی تبلیغ کرنے اور دین حق کی دعو ت دینے کا عہد لیا اور خصوصیت کے ساتھ اپ سے اور حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسی اور حضرت عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام سے عہد لیااور ہم نے ان سب سے بڑا مضبوط عہد لیا تاکہ اللہ تعالی قیامت کے دن سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے۔ایک قول یہ ہے کہ سچوں سے مراد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں اور ان سے سچ کا سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور جس کی انہیں تبلیغ کی وہ دریافت فرمائے یا اس کے یہ معنی ہیں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ان کی امتوں نے جو جواب دیئے وہ دریافت فرمائے اور اس سوال سے مقصود کفار کوذلیل ورسوا کرنا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سچوں سے مراد مومنین ہیں اور سچ کا سوال کرنے سے مراد ان کی تصدیق کے بارے میں سوال کر نا ہے۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۷-۸ ص۹۳۳ روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۷-۸ ۷ / ۱۴۱-۱۴۲ ملتقطا) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی افضلیت کا اظہار: اس ایت میں بالخصوص پانچ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کاذکرکرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ انبیاء اولوا العزم رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام میں سے تھے اوریہاں نہایت اہم نکتہ ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام جن کا اس ایت میں ذکر ہوا ان کا تذکرہ اسی ترتیب سے ہوا جس ترتیب سے وہ دنیا میں تشریف لائے لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری اگرچہ تمام نبیوں کے بعد ہوئی لیکن اللہ تعالی نے اپ کا ذکر دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے پہلے کیا اور یہ انداز تمام نبیوں پر حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی افضلیت کے اظہار کے لئے ہے۔