Surah Al Ahzab Ayat 70 (33:70)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا اتقوا الله: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔} اس ایت اورا س کے بعد والی ایت میں ایمان والوں کو تقوی اختیار کرنے سچی اور حق بات کہنے کاحکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم اللہ تعالی کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کی رعایت کرنے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور سچی درست حق اور انصاف کی بات کہا کرو اور اپنی زبان اور اپنے کلام کی حفاظت رکھویہ سب بھلائیوں کی اصل ہے۔اگرایسا کرو گے تو اللہ تعالی تم پر کرم فرمائے گا اور اللہ تعالی تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گاتمہیں نیکیوں کی توفیق دے گا اور تمہاری طاعتیں قبول فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جوشخص احکامات پر عمل کرنے اور ممنوعات سے بچنے میں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی فرمانبرداری کرے اس نے دنیا و اخرت میں بڑی کامیابی پائی۔( مدارکالاحزابتحت الایۃ:۷۰-۷۱ص۹۵۲ روح البیانالاحزابتحت الایۃ:۷۰-۷۱ ۷ / ۲۴۷-۲۴۸ ملتقطا) زبان کی حفاظت کی اہمیت: اس سے معلوم ہواکہ زبان ٹھیک رکھنا جھوٹ غیبت چغلی گالی گلوچ سے اسے بچانا بڑا اہم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے تقوی کے بعد زبان سنبھالنے کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے ورنہ یہ بھی تقوی میں اچکا تھا۔یاد رہے کہ زبان کی حفاظت تمام بھلائیوں کی اصل ہے اسی لئے دیگر کاموں کے لئے دو عضو ہیں اور بولنے کے لئے ایک زبان اوروہ بھی ہونٹوں کے پھاٹک میں بند اور 32 دانتوں کے پہرے میں قید ہے تاکہ یہ بات پیش نظر رہے کہ زبان کو بے قید نہ رکھا جائے۔ زبان کے بارے میں حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب انسان صبح کرتاہے توتمام اعضاء صبح کے وقت زبان سے کہتے ہیں :ہمارے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرنا اگر تو ٹھیک رہی توہم بھی سیدھے رہیں گے اوراگرتوٹیڑھی ہوگئی توہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔( ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء فی حفظ اللسان ۴ / ۱۸۳ الحدیث: ۲۴۱۵) اور امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :وہی شخص زبان کے شرسے نجات پاتاہے جواسے شریعت کی لگام کے ذریعے قابوکرتاہے اوراسے اسی بات کے لیے استعمال کرتاہے جواسے دنیااوراخرت میں نفع دے۔ انسان کے اعضا میں سے زبان سب سے زیادہ نافرمان ہے کیونکہ اسے حرکت دینے اوربولنے میں کچھ بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ اس کی افات اورگمراہیوں سے بچنے میں لوگ سستی کرتے ہیں اسی طرح اس کے جالوں اور رسیوں سے بھی نہیں بچتے حالانکہ انسان کوگمراہ کرنے میں زبان شیطان کاسب سے بڑاہتھیارہے۔( احیاء علوم الدین کتاب افات اللسان ۳ / ۱۳۳) اللہ تعالی ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھنے اور ا س کی حفاظت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔