Surah Saba Ayat 1 (34:1)
Sheba · Juz 22 · Makki
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔
Tafseer (Urdu)
{الحمد لله: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ۔} یعنی کامل شکر اور ہر طرح کی تعریف کا مستحق صرف وہ معبود ہے جو ساتوں اسمانوں اور ساتوں زمینوں میں موجود ہر چیز کا (خالق اور) مالک ہے اور جن معبودوں کی کفار عبادت کرتے ہیں وہ کسی تعریف کے مستحق ہیں اور نہ ہی کسی چیز کے مالک ہیں ۔( تفسیر طبری سبا تحت الایۃ: ۱ ۱۰ / ۳۴۴ ملخصا) {و له الحمد فی الاخرة: اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے۔} یعنی جیسے دنیا میں حمد کا مستحق اللہ تعالی ہے ویسے ہی آخرت میں بھی حمد کامستحق وہی ہے کیونکہ دونوں جہان اسی کی نعمتوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ دنیا اور اخرت کی حمد میں فرق: دنیا اور اخرت کی حمد میں فرق یہ ہے کہ دنیا میں بندوں پر اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرنا واجب ہے کیونکہ دنیا مکلف بنائے جانے کا مقام ہے جبکہ آخرت میں حمد و ثنا واجب نہیں کیونکہ اخرت مکلف بنائے جانے کا مقام نہیں اخرت میں اہل جنت نعمتوں کے سرور اور راحتوں کی خوشی میں اللہ تعالی کی حمد کریں گے۔( مدارک سبا تحت الایۃ: ۱ ص۹۵۵ ابو سعود سبا تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۳۸ ملتقطا) اخرت میں اہل جنت کی حمد کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: ’’و قالوا الحمد لله الذی صدقنا وعده و اورثنا الارض نتبوا من الجنة حیث نشآء-فنعم اجر العملین‘‘(زمر:۷۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ کہیں گے: سب خوبیاں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں گے تو کیا سہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و قالوا الحمد لله الذی اذهب عنا الحزن-ان ربنا لغفور شكورﰳ(۳۴)الذی احلنا دار المقامة من فضله-لا یمسنا فیها نصب و لا یمسنا فیها لغوب‘‘(فاطر:۳۴۳۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم سے غم دور کر دیا بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔ وہ جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ ٹھہرنے کے گھر میں اتارا ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ چھوئے گی۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اہل جنت کو تسبیح اور حمد کا اس طرح الہام ہو گا جیسے سانس اتا جاتا ہے۔( مسلمکتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا باب فی صفات الجنۃ واہلہا۔۔۔ الخ ص۱۵۲۰ الحدیث: ۱۸(۲۸۳۵)) یاد رہے کہ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کی تعریف اللہ تعالی کی ہی تعریف ہےجیسے قیامت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بہت حمد ہوگی ارشاد باری تعالی ہے: ’’عسى ان یبعثك ربك مقاما محمودا‘‘(بنی اسرائیل:۷۹) ترجمہ کنزالعرفان: قریب ہے کہ اپ کا رب اپ کو ایسے مقام پر فائز فرمائے گا کہ جہاں سب تمہاری حمد کریں ۔ لیکن وہ حمد چونکہ بالواسطہ اللہ تعالی کی حمد ہے اس لئے زیر تفسیر ایت کا حصر درست ہے ۔