Surah Saba Ayat 19 (34:19)
Sheba · Juz 22 · Makki
فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب !ہمارے سفروں میں دوری ڈال دے اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں قصے کہانیاں بنادیا اورانہیں بالکل جدا جدا کردیا ۔بیشک اس میں ہر بڑے صبر والے ،ہر بڑے شکر والے کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو بولے اے ہمارے رب ہمیں سفر میں دوری ڈال اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا بے شک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{فقالوا: تو انہوں نے کہا۔} خوشحالی اور نعمتوں کی کثرت والے ان حالات کی بنا پر اترانے اور تکبر کرنے لگے اور مالداروں میں حسد پیدا ہوا کہ ہمارے اور غریبوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہا یونہی جو امن و عافیت انہیں حاصل تھی جیسے منزلیں قریب قریب ہیں اور لوگ خراماں خراماں ہوا خوری کرتے چلے جاتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد دوسری آبادی اجاتی ہے وہاں ارام کرتے ہیں نہ سفر میں تکان ہے نہ کوفت اس پر انہوں نے قناعت نہ کی اور یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر منزلیں دور ہوتیں سفر کی مدت دراز ہوتی راستے میں پانی نہ ملتا جنگلوں اور بیابانوں میں سے گزرہوتا تو ہم توشہ ساتھ لیتے پانی کے انتظام کرتےسواریاں اور خدام ساتھ رکھتے سفر میں مشقت اٹھانے کا لطف آتا اور امیر و غریب کا فرق ظاہر ہوتا ۔اس پر انہوں نے یہ دعا کی :اے ہمارے رب! عزوجل ہمارے اور شام کے درمیان جنگل اور بیابان کردے تا کہ بغیر توشہ اور سواری کے سفر نہ ہوسکے۔اللہ تعالی نے ا ن کی یہ دعا قبول فرمالی اور ان شہروں کو ویران کر دیا۔( روح البیان سبا تحت الایۃ: ۱۹ ۷ / ۲۸۶ مدارک سبا تحت الایۃ: ۱۹ ص۹۶۱ ملتقطا) {و ظلموا انفسهم: اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔} یعنی سبا والوں نے تکبر و سرکشی کر کے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں بعد والوں کے لئے قصے کہانیاں بنادیاتا کہ وہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کریں اوران قبیلوں کو ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا کردیا وہ بستیاں غرق ہوگئیں اور لوگ بے گھر ہو کر جدا جدا شہروں میں پہنچے۔ قبیلہ غسان شام میں قبیلہ ازد عمان میں قبیلہ خزاعہ تہامہ میں آل خزیمہ عراق میں اور اوس خزرج کا دادا عمروبن عامر مدینہ میں پہنچا۔ بیشک سبا والوں کے اس واقعے میں ہر بڑے صبر والے اورہر بڑے شکر والے کے لئے ضرور نشانیاں ہیں کہ صبر و شکر مومن کی صفت ہے جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور جب نعمت پاتا ہے توشکر بجالاتا ہے۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۵۲۱-۵۲۲) امن و عافیت بہت بڑی نعمتیں ہیں : سبا والوں کے طرز عمل اور ان کے انجام سے معلوم ہو اکہ امن و عافیت اور سکون وراحت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور جسے یہ نعمتیں حاصل ہوں اسے ان پر تکبر و غرور کرنے کی بجائے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور ان نعمتوں کے مقابلے میں بے امنی اور مشقت کی تمنا اور دعا نہیں کرنی چاہئے۔ صبر اور شکر مومن کی دو صفات ہیں : معلوم ہوا کہ صبر اور شکر مومن کی دو بہترین صفات ہیں ۔اس کے بارے میں حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مومن کے معاملے پر تعجب ہوتا ہےاس کے ہر حال میں خیر ہے اور یہ مقام اس کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ۔اگر وہ نعمتوں کے ملنے پر شکر کرے تو اسے اجر ملتا ہے اور اگر وہ مصیبت انے پر صبر کرے تو بھی اسے اجر ملتا ہے۔( مسلم کتاب الزہد والرقائق باب المومن امرہ کلہ خیر ص۱۵۹۸ الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹)) اللہ تعالی ہر مومن کو یہ عظیم صفات نصیب فرمائےامین۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں صابر و شاکر کون اللہ تعالی کی بارگاہ میں وہ لوگ بھی صابر و شاکر شمار ہوتے ہیں جن کا اس حدیث پاک میں ذکر ہےچنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو پیش نظر رکھا تو اللہ تعالی اسے صابر اور شاکر لکھ دیتا ہے اور جس نے دین کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو پیش نظر رکھا تو اللہ تعالی اسے صابرا ور شاکر نہیں لکھتا۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۳۷ الحدیث: ۴۵۷۵) اللہ تعالی ہمیں بھی اپنا صابر و شاکر بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے امین۔