Surah Saba Ayat 18 (34:18)
Sheba · Juz 22 · Makki
وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَؕ-سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اِن (سبا والوں ) اور اُن شہروں کے درمیان بہت سی نمایاں بستیاں بنادیں جن میں ہم نے برکت رکھی تھی اور ان بستیوں میں سفر کو ایک اندازے پر رکھا (اور انہیں فرمایا:) ان میں راتوں اور دنوں کوامن و امان سے چلو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے کئے تھے ان میں اور ان شہروں میں جن میں ہم نے برکت رکھی سر ِراہ کتنے شہر اور اُنہیں منزل کے اندازے پر رکھا ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا بینهم و بین القرى: اور ہم نے ان میں اور ان شہروں کے درمیان بنادیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے شہر سبا میں اور دوسرے شہروں کے درمیان بہت سی نمایاں بستیاں بنادیں جن میں ہم نے برکت رکھی تھی کہ وہاں کے رہنے والوں کو وسیع نعمتیں پانی درخت اور چشمے عنایت کئے۔ ان دوسرے شہروں سے مرادشام کے شہر ہیں اور سبا سے شام تک کے سفر کرنے والوں کو اس راستے میں کھانا اور پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔اورفرمایا کہ ان بستیوں میں سفر کو ایک اندازے پر رکھاتاکہ چلنے والا ایک مقام سے صبح چلے تو دوپہر کو ایک آبادی میں پہنچ جائے جہاں ضروریات کے تمام سامان میسر ہوں اور جب دوپہر کو چلے تو شام کو ایک شہر میں پہنچ جائے ۔یمن سے شام تک کا تمام سفر اسی آسائش کے ساتھ طے ہوسکے اور ہم نے ان سے کہا کہ ان بستیوں میں راتوں اور دنوں کوامن و امان سے چلو نہ راتوں میں کوئی کھٹکا نہ دنوں میں کوئی تکلیف نہ دشمن کا اندیشہ نہ بھوک پیاس کا غم۔(خازن سبا تحت الایۃ: ۱۸ ۳ / ۵۲۱ مدارک سبا تحت الایۃ: ۱۸ ص۹۶۰-۹۶۱ ملتقطا)