Surah Saba Ayat 24 (34:24)
Sheba · Juz 22 · Makki
قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلِ اللّٰهُۙ-وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ :کون ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟تم خود ہی فرماؤ: ’’اللہ ‘‘ اور بیشک ہم یا تم (کوئی ایک) ضرور ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے تم خود ہی فرماؤ اللہ اور بیشک ہم یا تم یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ۔
Tafseer (Urdu)
{قل من یرزقكم من السموت و الارض: تم فرماؤ :کون ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ بتوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرانے والوں سے فرما دیں کہ آسمان سے بارش برسا کر اور زمین سے سبزہ اگا کر تمہیں روزی کون دیتا ہے اگر مشرکین ا س سوال کا جواب نہ دیں تو اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ خود ہی فرمادیں کہ’’تمہیں اللہ تعالی روزی دیتا ہے‘‘کیونکہ اس سوال کا اس کے علاوہ اورکوئی جواب ہے ہی نہیں اور (فرما دیں کہ) بیشک ہم یا تم دونوں فریقوں میں سے ایک ضرور ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں ہے۔( تفسیر طبری سبا تحت الایۃ: ۲۴ ۱۰ / ۳۷۵ جلالین السبا تحت الایۃ: ۲۴ ص۳۶۱ ملتقطا) اور یہ ظاہرو یقینی اور قطعی بات ہے کہ جو شخص صرف اللہ تعالی کو روزی دینے والا پانی برسانے والا سبزہ اگانے والا جانتے ہوئے بھی بتوں کو پوجے جو کہ کسی ایک ذرہ بھر چیز کے مالک نہیں (جیسا کہ اوپر آیات میں بیان ہوچکا) وہ یقینا کھلی گمراہی میں ہے۔