Surah Saba Ayat 39 (34:39)
Sheba · Juz 22 · Makki
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗؕ-وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: بیشک میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے رزق وسیع فرماتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ بے شک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ فرما دیں کہ بیشک میرا رب عزوجل اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اپنی حکمت کے مطابق رزق وسیع فرماتا اورجس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے اور اے لوگو! جو چیز تم اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرو گے تو وہ دنیا میں یا آخرت میں اس کے بدلے میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والاہے کیونکہ اس کے سوا جو کوئی کسی کو دیتا ہے خواہ بادشاہ لشکر کو یا آقا غلام کو یا صاحب خانہ اپنے عیال کو وہ اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی اور اس کی عطا فرمائی ہوئی روزی میں سے دیتا ہے۔ رزق اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اسباب کا خالق اللہ تعالی کے سوا اور کوئی نہیں وہی حقیقی رزاق ہے۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۵۲۵ مدارک سبا تحت الایۃ: ۳۹ ص۹۶۵ ملتقطا) راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب: اس ایت میں اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اسی مناسبت سے یہاں راہ خدا میں خرچ کرنے سے متعلق 3احادیث ذکر کی جاتی ہیں ۔ (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی دن ایسا نہیں کہ بندے صبح کرتے ہیں مگر دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے:اے اللہ! عزوجل خرچ کرنے والے کو بدلہ دے ۔دوسرا کہتا ہے:بخیل کو بربادی دے ۔( بخاری کتاب الزکاۃ باب قول اللہ: فاما من اعطی واتقی۔۔۔ الخ ۱ / ۴۸۵ الحدیث: ۱۴۴۲) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’اے ابن ادم! خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا۔( بخاری کتاب النفقات باب فضل النفقۃ علی الاہل ۳ / ۵۱۱ الحدیث: ۵۳۵۲) (3)… حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا۔ معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے اورعاجزی کرنے سے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔( مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب استحباب العفو والتواضع ص۱۳۹۷ الحدیث: ۶۹(۲۵۸۸)) اللہ تعالی ہمیں اپنی راہ میں مال خرچ کرنے اور بخل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔