Surah Saba Ayat 45 (34:45)
Sheba · Juz 22 · Makki
وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْۙ-وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ- فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا اور یہ لوگ تواس (مال و دولت) کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے ان (پہلے لوگوں ) کو دیا تھا پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تومیرا انکارکرنا کیسا ہوا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان سے اگلوں نے جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے اُنہیں دیا تھا پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار کرنا۔
Tafseer (Urdu)
{و كذب الذین من قبلهم: اور ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا۔} اس ایت میں کفار قریش کو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کرنے سے ڈرایا گیا ہےایت کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی امتوں نے کفار قریش کی طرح رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں جھٹلایا اور جو قوت مال و اولاد کی کثرت اور لمبی عمریں پہلوں کو دی گئی تھیں مشرکین قریش کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ان سے پہلے لوگ تو ان سے طاقت قوت اورمال و دولت میں دس گنا زیادہ تھے۔ پھر پہلے تکذیب کرنے والوں نے جب میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میں نے اپنے عذاب سے انہیں ہلاک کر دیا اور ان کی طاقت و قوت اور مال و دولت کوئی چیز بھی کام نہ آئی تو ان کفار قریش کی کیا حقیقت ہے انہیں سابقہ امتوں پر نازل ہونے والے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔( مدارک سبا تحت الایۃ: ۴۵ص۹۶۶ ملخصا)