Surah Saba Ayat 49 (34:49)
Sheba · Juz 22 · Makki
قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ:حق آ گیا اور باطل کی نہ ابتدا رہے اور نہ لوٹ کر آئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ حق آیا اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ فرما دیں کہ حق یعنی قرآن اوراسلام ا گیا اور باطل یعنی شرک و کفر مٹ گیا نہ اس کی ابتدا رہی نہ اس کا اعادہ مراد یہ ہے کہ وہ ہلاک ہوگیا اور اس کا کوئی اثر باقی نہ بچا۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۴۹ ۳ / ۵۲۷ مدارک سبا تحت الایۃ: ۴۹ ص۹۶۸ جلالین السبا تحت الایۃ: ۴۹ ص۳۶۳ ملتقطا) سر کے بل بت گر پڑے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن جب تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کے گرد تین سوساٹھ بت نصب تھے۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی سے ان بتوں کو گرانا شروع کر دیا کہ ’’جآء الحق و زهق الباطل‘‘(ترجمہکنزالعرفان: حق آیا اور باطل مٹ گیا۔) ’’جآء الحق و ما یبدئ الباطل و ما یعید‘‘ (ترجمہکنزالعرفان: حق ا گیا اور باطل کی نہ ابتدا رہے اور نہ لوٹ کر آئے۔)( بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم الرایۃ یوم الفتح ۳ / ۱۰۳ الحدیث: ۴۲۸۷)