Surah Saba Ayat 54 (34:54)
Sheba · Juz 22 · Makki
وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ 54
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان کے درمیان اور ان کی چاہت کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسے ان کے پہلے گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و حیل بینهم و بین ما یشتهون: اور ان کے درمیان اور ان کی چاہت کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی۔} یعنی کفار کے درمیان اور ان کی چاہت توبہ وایمان قبول کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسے ان کے پہلے گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ان کی توبہ و ایمان نا امیدی کے وقت قبول نہ فرمائی گئیبیشک کفار ایمانیات کے متعلق دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔( خازن سبا تحت الایۃ: ۵۴ ۳ / ۵۲۸ جلالین السبا تحت الایۃ: ۵۴ ص۳۶۳-۳۶۴ ملتقطا) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم قران پاک کی ایات میں بہت غور و فکر کیا کرتے تھے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے ٹھنڈا پانی پیا تو رونے لگ گئے ۔ان سے عرض کی گئی کہ اپ کو کیا چیز رلا رہی ہے۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالی کی کتاب میں سے یہ ایت یاد ا گئی تھی: ’’و حیل بینهم و بین ما یشتهون‘‘ اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ جہنمی صرف ٹھنڈے پانی کی خواہش کریں گے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے )اور جہنمی جنتیوں کو پکاریں گے): ’’ان افیضوا علینا من المآء او مما رزقكم الله ‘‘(اعراف:۵۰) ترجمہکنزالعرفان: کہ ہمیں کچھ پانی دیدو یا اس رزق سے کچھ دیدو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۴۹ الحدیث: ۴۶۱۴) ان مقدس ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں بھی چاہئے کہ قران مجید کی ایات میں غور و فکر کیا کریں اور ان میں بیان کئے گئے مضامین اور دیگر چیزوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کیا کریں ۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائےامین۔