Surah Fatir Ayat 1 (35:1)
Originator · Juz 22 · Makki
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَؕ-یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے ،فرشتوں کو رسول بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، پیدائش میں جو چاہتا ہے بڑھادیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں ، بڑھاتا ہے آفْرِیْنِش میں جو چاہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الحمد لله: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ مثال کے بغیر بنانے والا ہے ان فرشتوں کو اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف رسول (یعنی قاصد) بنانے والاہے جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں ۔(جلالین فاطر تحت الایۃ: ۱ ص۳۶۴) حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ فرشتوں میں پروں کی زیادتی ان کے مراتب کی زیادتی کی بنا پر ہے ورنہ فرشتہ ایک ہی ان میں اسمان و زمین کی مسافت طے کر لیتا ہے۔(روح البیان فاطر تحت الایۃ: ۱ ۷ / ۳۱۲ ملخصا) یاد رہے کہ ایت میں فرشتوں کے پروں کی تعداد کا بیا ن حصر یا زیادتی کی نفی کے لئے نہیں ہے کیونکہ بعض فرشتے ایسے ہیں کہ جن کے بہت زیادہ پر ہیں جیسے صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کے چھ سو پر ملاحظہ فرمائے۔( مسلم کتاب الایمان باب فی ذکر سدرۃ المنتہی ص۱۰۷ الحدیث: ۲۸۰(۱۷۴)) اس ایت سے معلوم ہوا کہ جو فرشتے انبیا ء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اللہ تعالی کے پیغام لاتے ہیں وہ دیگرفرشتوں میں اعلی درجے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ا س ایت میں بطور خاص ان کا ذکر فرمایا ہے ۔ {یزید فی الخلق ما یشآء: پیدائش میں جو چاہتا ہے بڑھادیتا ہے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالی فرشتوں کی بناوٹ اور ان کے پروں میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ فرماتا ہے۔(روح المعانی فاطر تحت الایۃ: ۱ ۱۱ / ۴۶۱) اوردیگر مفسرین رحمۃاللہ تعالی علیہم نے اس ایت میں مذکور زیادتی کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں ان کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی انسانی جسم کی بناوٹ میں یا اس کی اوازکی خوبصورتی میں یا اس کی اچھی لکھائی میں یا اس کی انکھوں اور ناک کی ملاحت میں یا ا س کے بالوں کے گھونگر میں یا اس کی عقل میں یا ا س کے علم میں یا اس کے پیشے میں یا اس کے نفس کی پاکیزگی میں یا گفتگو کی حلاوت میں جس طرح چاہتا ہے اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق اضافہ فرما دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا صرف ان میں ہی اضافہ منحصر نہیں بلکہ ان چیزوں کا ذکر بطور مثال کیا گیا ہے اور یہ ایت تخلیق میں ہر طرح کے اضافے کو شامل ہے چاہے وہ ان چیزوں میں ہو جنہیں ظاہری طور پر حسین شمار کیا جاتا ہے یا ان چیزوں میں ہو جنہیں بظاہر اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔(بحر المحیط فاطر تحت الایۃ: ۱ ۷ / ۲۸۶ ابو سعود فاطر تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۶۰ ملتقطا) ایت کے اخر میں فرمایا کہ ’’بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ لہذا اس کی قدرت صرف ان موجودات میں منحصر نہیں بلکہ وہ ہمارے خیال اوروہم سے وراء ہے ۔