Surah Fatir Ayat 28 (35:28)
Originator · Juz 22 · Makki
وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَؕ-اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے مختلف رنگ ہیں ۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بیشک اللہ عزت والا،بخشنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور آدمیوں اور جانوروں اور چارپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بے شک اللہ عزت والابخشنے والا ۔
Tafseer (Urdu)
{و من الناس و الدوآب و الانعام مختلف الوانه كذلك: اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے مختلف رنگ ہیں ۔} یعنی جس طرح پھلوں اور پہاڑوں کے مختلف رنگ ہیں اسی طرح آدمیوں جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں کہ ان میں سے کسی کا رنگ سرخ اور کسی کا سفید اور کسی کا سیاہ اور یہ سب اللہ تعالی کے صانع اور مختار ہونے کی دلیل ہیں ۔( جلالین فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ص۳۶۶ قرطبی فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ۷ / ۲۴۹ الجزء الرابع عشر ملتقطا) { انما یخشى الله من عباده العلمؤا: اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔} اس ایت کی ابتداء اور اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے نشان اور صنعت کے آثار ذکر کئے جن سے اس کی ذات و صفات پر استدلال کیا جاسکتا ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا’’اللہ تعالی سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں اور اس کی صفات کو جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں اور جو شخص جتنا زیادہ اللہ تعالی کی ذات و صفات کا علم رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہو گا اور جس کا علم کم ہو گا تو ا س کا خوف بھی کم ہو گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اس ایت سے مراد یہ ہے کہ مخلوق میں سے اللہ تعالی کا خوف اس کو ہے جو اللہ تعالی کے جبروت اور اس کی عزت و شان سے باخبر ہے۔( مدارک فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ص۹۷۷-۹۷۸ خازن فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۵۳۴ ملتقطا) ایت ’’انما یخشى الله من عباده العلمؤا‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات: اس ایت سے چار باتیں معلوم ہوئیں : (1)… خوف اور خشیت کا مدار ڈرنے والے کے علم اور ا س کی معرفت پر ہے اور چونکہ مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ تعالی کی صفات کی معرفت اور اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں علم حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ہے اس لئے اپ ہی مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں ۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے’’ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا’’ اللہ عزوجل کی قسم! میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کا خوف رکھنے والا ہوں ۔( بخاری کتاب الادب باب من لم یواجہ الناس بالعتاب ۴ / ۱۲۷ الحدیث: ۶۱۰۱ مسلم کتاب الفضائل باب علمہ صلی اللہ علیہ وسلم باللہ تعالی وشدۃ خشیتہ ص۱۲۸۱ الحدیث: ۱۲۷(۲۳۵۶)) (2)…لوگوں کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کی ذات وصفات کی صحیح طریقے سے معرفت اور علم حاصل کریں تاکہ ان کے دلوں میں اللہ تعالی کا خوف زیادہ ہو۔ (3)… علم والوں کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں لہذا علماء کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے اور لوگوں کو بھی اللہ تعالی سے ڈرنے کی ترغیب دینی چاہئے۔ حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں : ’’صحیح معنوں میں فقیہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور اللہ تعالی کی نافرمانی پر انہیں جری نہ کرے اللہ تعالی کے عذاب سے انہیں بے خوف نہ کر دے اور قران کے بغیر کوئی چیز اسے اپنی طرف راغب نہ کر سکے۔( قرطبی فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ۷ / ۲۵۰ الجزء الرابع عشر) ایک شخص نے اما م شعبی رحمۃاللہ تعالی علیہ سے عرض کی’’مجھے فتوی دیجئے کہ عالم کون ہے۔اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا: ’’عالم تو صرف وہی ہے جو اللہ تعالی سے ڈرتا ہو۔ اورحضرت ربیع بن انس رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’جس کے دل میں اللہ تعالی کا خوف نہیں وہ عالم نہیں۔( خازن فاطر تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۵۳۴) (4)… علم والے بہت مرتبے والے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنی خشیت اور خوف کو ان میں منحصر فرمایا لیکن یاد رہے کہ یہاں علم والوں سے مراد وہ ہیں جو دین کا علم رکھتے ہوں اوران کے عقائد و اعمال درست ہوں ۔