Surah Fatir Ayat 29 (35:29)
Originator · Juz 22 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین یتلون كتب الله: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو پابندی کے ساتھ قران پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اس میں موجود احکام وغیرہ کی معلومات حاصل کرتے اور ان پر عمل کرتے ہیں اور نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت یعنی ثواب کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی تاکہ اللہ تعالی انہیں ان کے اعمال کا ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور اپنی رحمت کے خزانوں سے انہیں اور زیادہ عطا کرے جس کے بارے میں عمل کرتے وقت انہوں نے تصور تک نہ کیا ہو گا کیونکہ اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی خطاوں کو بخشنے والا اور ان کے نیک اعمال کی قدر فرمانے والا ہے۔(خازنفاطرتحت الایۃ:۲۹-۳۰۳ / ۵۳۴-۵۳۵ روح البیانفاطر تحت الایۃ:۲۹-۳۰۷ / ۳۴۴-۳۴۵ملتقطا) قیامت کے دن سایہ عرش میں جگہ پانے والے لوگ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سات ادمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی اس دن اپنے (عرش کے) سایہ میں جگہ دے گا جس دن اس کے (عرش کے) سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔(1)عادل حکمران۔(2)وہ نوجوان جو اپنے رب عزوجل کی عبادت میں پروان چڑھا۔ (3) وہ ادمی جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔(4)وہ دو ادمی جو اللہ تعالی سے محبت کے باعث اکھٹے ہوں اور اسی وجہ سے جدا ہوں ۔(5)وہ ادمی جسے حیثیت اور جمال والی عورت بلائے تو وہ کہہ دے کہ میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں ۔ (6)وہ ادمی جو چھپا کر خیرات کرے یہاں تک کہ ا س کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ (7)وہ ادمی جو تنہائی میں اللہ تعالی کا ذکر کرے تو اس کے انسو جاری ہو جائیں ۔( بخاری کتاب الاذان باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔۔ الخ ۱ / ۲۳۶ الحدیث: ۶۶۰)