Surah Fatir Ayat 42 (35:42)
Originator · Juz 22 · Makki
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىٕنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِۚ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِ لَّا نُفُوْرَاۙﰳ 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے اپنی قسموں میں حد بھر کی کوشش کر کے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور تمام امتوں میں سے (ہر) ایک امت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں گے (لیکن) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا تواس نے ان کی نفرت میں ہی اضافہ کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا تو اُس نے انہیں نہ بڑھایا مگر نفرت کرنا۔
Tafseer (Urdu)
{و اقسموا بالله جهد ایمانهم: اور انہوں نے اپنی قسموں میں حد بھر کی کوشش کر کے اللہ کی قسم کھائی۔} نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اپنے رسولو ں کو نہ ماننے اور ان کو جھٹلانے کے بارے میں کہا تھا کہ’’اللہ تعالی ان پر لعنت کرے کہ ان کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے رسول آئے اور انہوں نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا خدا کی قسم! اگر ہمارے پاس کوئی رسول آئے تو ہم ان سے زیادہ راہ راست پر ہوں گے اور اس رسول کو ماننے میں ان کے بہتر گروہ پر سبقت لے جائیں گے۔لیکن جب ان کے پاس حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رونق افروزی اور جلوہ آرائی ہوئی تو حق و ہدایت سے ان کی نفرت اور دوری میں ہی اضافہ ہوا۔(خازن فاطر تحت الایۃ: ۴۲ ۳ / ۵۳۸ مدارک فاطر تحت الایۃ: ۴۲ ص۹۸۲ ملتقطا)