Surah Yasin Ayat 43 (36:43)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ انہیں بچایا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و ان نشا نغرقهم: اور اگرہم چاہیں تو انہیں ڈبو دیں ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو کشتیوں میں موجود لوگوں کو ڈبو دیں تو اس وقت کوئی ایسا نہ ہو گا جوان ڈوبنے والوں کی فریاد کو پہنچ کر ان کی مدد کرے اور نہ ہی خدا کے حکم کے بعد لوگوں کوڈوب کر مرنے سے بچایا جائے گا البتہ دو صورتوں میں یہ لوگ بچ سکتے ہیں پہلی یہ کہ ہم ان پر رحم فرمائیں دوسری یہ کہ ان کی دنیا سے فائدہ اٹھانے کی مہلت ابھی باقی ہو۔( ابن کثیر یس تحت الایۃ: ۴۳-۴۴ ۶ / ۵۱۵-۵۱۶ البحر المحیط یس تحت الایۃ: ۴۳-۴۴ ۷ / ۳۲۴ جلالین یس تحت الایۃ: ۴۳-۴۴ ص۳۷۰ ملتقطا) سورہ یس کی ایت نمبر43اور44سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…اپنی حفاظت کے مادی اسباب اور ذرائع پر غرور نہیں کرناچاہئے بلکہ اسباب اختیار کر کے اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے کرم پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ (2)… عیش و ارام اور نعمتوں سے مالا مال ہونے کی حالت میں اللہ تعالی کے عذاب اور اس کے قہر و غضب سے غافل اوربے خوف نہیں ہونا چاہئے اور دوران سفر تواس کا خاص خیال رکھنا چاہئے کیونکہ سفر کی حالت میں انسان کے حادثے کا شکار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ لوگ اللہ تعالی سے غافل ہو کر اور موج مستی کرتے ہوئے سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک ٹرین اور بس وغیرہ حادثے کا شکار ہوجاتی ہے اور لوگ مر جاتے ہیں اسی طرح بحری جہاز میں سفر کرنے والے اچانک سمندری طوفان کی لپیٹ میں ا کر غرق ہو جاتے ہیں یونہی ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے دوران پرواز اچانک کسی حادثہ کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔