Surah Yasin Ayat 65 (36:65)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{الیوم نختم على افواههم: آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ ابتداء میں کفار اپنے کفر اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کا انکار کریں گے اورکہیں گے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھےتو اللہ تعالی ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا تاکہ وہ بول نہ سکیں پھران کے دیگر اعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کردیں گے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ اعضا جو گناہوں پر ان کے مددگار تھے وہ ان کے خلاف ہی گواہ بن گئے۔( خازن یس تحت الایۃ : ۶۵ ۴ / ۱۰ مدارک یس تحت الایۃ : ۶۵ ص۹۹۲ جلالین یس تحت الایۃ : ۶۵ ص۳۷۲ ملتقطا) قیامت کے دن انسان کی اپنی ذات ا س کے خلاف گواہ ہو گی: معلوم ہوا کہ بندہ اپنے جسم کے جن اعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کر دیں گے اور ا س کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہو جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے اخر میں ہے کہ بندہ کہے گا: اے میرے رب!میں تجھ پرتیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایامیں نے نماز پڑھیروزہ رکھا اور صدقہ دیا وہ بندہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا۔ اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا’’ابھی پتا چل جائے گا پھر ا س سے کہا جائے گا :ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں ۔وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا :میرے خلاف کون گواہی دے گاپھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی راناس کے گوشت اور ا س کی ہڈیوں سے کہا جائے گا : تم بولو۔ پھر اس کی راناس کا گوشت اور ا س کی ہڈیاں ا س کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہو گا جس پر اللہ تعالی ناراض ہو گا۔( مسلم کتاب الزہد والرقائق ص۱۵۸۷ الحدیث: ۱۶(۲۹۶۸)) یاد رہے کہ مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہو گی بلکہ اعضا کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔