Surah As Saffat Ayat 149 (37:149)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَ 149
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان سے پوچھو، کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کیلئے بیٹے ہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے۔
Tafseer (Urdu)
{فاستفتهم: تو ان سے پوچھو۔} اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تسلی کے لئے گزشتہ نبیوں اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات بیان فرمانے کے بعد ان ایات میں قبیلہ جہینہ اور بنی سلمہ وغیرہ کفار کے اس عقیدے ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘‘کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کفار سے پوچھیں کہ کیا تمہارے رب عزوجل کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کیلئے بیٹے ہیں تم اپنے لئے تو بیٹیاں گوارا نہیں کرتے اور انہیں بری جانتے ہواور پھر ایسی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہو ۔( تفسیر قرطبی الصافات تحت الایۃ : ۱۴۹ ۸ / ۹۸ الجزء الخامس عشر خازن و الصافات تحت الایۃ: ۱۴۹ ۴ / ۲۷ ملتقطا) کفار کا اپنی بیٹیوں سے نفرت کا حال: کفار خود بیٹیوں سے کس قدر نفرت کرتے اور انہیں اپنے لئے کتنا باعث عار سمجھتے تھے ا س کا حال بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و اذا بشر احدهم بالانثى ظل وجهه مسودا و هو كظیم(۵۸) یتوارى من القوم من سوء ما بشر به-ایمسكه على هون ام یدسه فی التراب-الا سآء ما یحكمون‘‘(نحل:۵۸۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھرا ہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔ اور یہ کتنا افسوس کا مقام ہے کہ جس چیز سے وہ اتنی نفرت کرتے ہیں اور اپنے لئے اتنا باعث عار سمجھتے ہیں کہ اسے زندہ دفن کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اسی چیز کو وہ اولاد ہی سے پاک رب تعالی کی طرف منسوب کرتے ہیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ الكم الذكر و له الانثى(۲۱)تلك اذا قسمة ضیزى‘‘(النجم:۲۱۲۲) ترجمہ کنزالعرفان: کیا تمہارے لئے بیٹا اور اس کیلئے بیٹی ہے۔ جب تو یہ سخت بری تقسیم ہے۔