Surah As Saffat Ayat 180 (37:180)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ 180
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمہارا رب عزت والا ان تمام باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے۔
Tafseer (Urdu)
{سبحن ربك: تمہارا رب پاک ہے۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کا عزت والا رب ان تمام باتوں سے پاک اور بری ہے جو کافر اس کی شان میں کہتے ہیں اور اس کے لئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔( تفسیر طبری الصافات تحت الایۃ: ۱۸۰ ۱۰ / ۵۴۳ ملخصا) {و سلم على المرسلین: اور رسولوں پر سلام ہو۔} اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ اور وسیلہ چونکہ رسول ہیں ا س لئے ان کی شان کے بارے میں اگاہ کرتے ہوئے فرمایاکہ رسولوں پر سلام ہو جنہوں نے اللہ تعالی کی طرف سے توحید اور احکام شرع پہنچائے کیونکہ انسانی مراتب میں سب سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہواور دوسروں کی تکمیل کرے یہ شان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہے لہذا ہر ایک پر ان حضرات کی پیروی اور ان کی اقتدا لازم ہے۔( روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۱۸۱ ۷ / ۵۰۰ خازن والصافات تحت الایۃ: ۱۸۱ ۴ / ۲۹ ملتقطا)اور ہم چونکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت ہیں ا س لئے ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ سورہ صافات کی اخری3ایات کی فضیلت: سورہ صافات کی ان اخری 3ایات کی بہت فضیلت ہے چنانچہ حضرت ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہر نماز کے بعد تین مرتبہ کہا: ’’سبحن ربك رب العزة عما یصفون(۱۸۰) و سلم على المرسلین(۱۸۱) و الحمد لله رب العلمین‘‘ ’’تو ا س نے اپنا اجر کا پیمانہ بھر لیا۔( معجم الکبیر عبد اللہ بن زید بن ارقم عن ابیہ ۵ / ۲۱۱ الحدیث: ۵۱۲۴) اورحضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں جسے یہ پسند ہو کہ قیامت کے دن اسے اجر کا پیمانہ بھر بھر کے دیا جائے تو اسے چاہئے کہ اس کی مجلس کا اخری کلام یہ ہو:’’ سبحن ربك رب العزة عما یصفون(۱۸۰) و سلم على المرسلین(۱۸۱) و الحمد لله رب العلمین‘‘(تفسیر بغوی الصافات تحت الایۃ: ۱۸۲ ۴ / ۴۰)