Surah As Saffat Ayat 19 (37:19)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو وہ تو ایک جھڑک ہی ہوگی تو جبھی وہ دیکھنے لگیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو وہ تو ایک ہی جھڑک ہے جبھی وہ دیکھنے لگیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{فانما هی زجرة واحدة: تو وہ تو ایک جھڑک ہی ہوگی۔} اس ا یت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالی دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ فرمائے گاتو وہ نفخہ ثانیہ کی ایک ہی ہولناک اوازہو گی اوروہ اسی وقت زندہ ہوکر اپنے افعال اور پیش آنے والے احوال دیکھنے لگیں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری خرابی! فرشتے ان سے کہیں گے کہ’’ یہ انصاف کا دن ہے یہ حساب و جزا کا دن ہے اوریہ وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے ۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۱۹-۲۱ ص۹۹۹ جلالین الصافات تحت الایۃ: ۱۹-۲۱ ص۳۷۴ ملتقطا) قیامت کے18 نام اور ان کی وجوہ تسمیہ: ایت نمبر21 سے معلوم ہوا کہ قیامت کے بہت سے نام ہیں اور یہ نام اس دن کے کاموں کے لحاظ سے ہیں ان میں سے قران پاک میں ذکرکردہ کچھ نام یہاں مذکور ہیں (1)… قیامت کا دن قریب ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس کا انا یقینی ہے وہ قریب ہے ا س اعتبار سے اسے ’’یوم الازفة‘‘ یعنی قریب انے والادن کہتے ہیں ۔ (2)…دنیا میں قیامت کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہےاس اعتبار سے اسے ’’ یوم الوعید‘‘ یعنی عذاب کی وعیدکا دن کہتے ہیں ۔ (3)…اس دن اللہ تعالی سب کودوبارہ زندہ فرمائے گا ا س لئے وہ ’’یوم البعث‘‘ یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے کا دن ہے۔ (4)…اس دن لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اس لئے وہ ’’یوم الخروج‘‘ یعنی نکلنے کا دن ہے ۔ (5)…ا س دن اللہ تعالی سب لوگوں کو حشر کے میدا ن میں جمع فرمائے گا اس لئے وہ ’’یوم الجمع‘‘ اور ’’یوم الحشر‘‘ یعنی جمع ہونے اور اکٹھا ہونے کا دن ہے ۔ (6)… اس دن تمام مخلوق حاضرہو گی اس لئے وہ ’’یوم مشهود‘‘ یعنی حاضری کا دن ہے۔ (7)…اس دن تمام مخلوق کے اعمال کا حساب ہو گا اس لئے وہ ’’یوم الحساب‘‘ یعنی حساب کا دن ہے۔ (8)… اس دن بدلہ دیا جائے گااور انصاف کیا جائے گا لہذا وہ ’’ یوم الدین‘‘ یعنی بدلے اور انصاف کا دن ہے۔ (9)… دہشتحساب اور جزاء کے اعتبار سے وہ بڑا دن ہے اس لئے اسے ’’یوم عظیم‘‘ یعنی بڑا دن کہتے ہیں ۔ (10)… اس دن لوگوں کا فیصلہ یا ان میں فاصلہ اور جدائی ہو جائے گی اس لئے وہ ’’ یوم الفصل‘‘ یعنی فیصلے یا فاصلے کا دن ہے۔ (11)… قیامت کے دن چونکہ کفار کے لئے اصلا کوئی بھلائی نہ ہوگی ا س اعتبار سے اسے ’’ یوم عقیم‘‘ یعنی بانجھ دن کہتے ہیں ۔ (12)…برے حساب اور عذاب کے اعتبار سے وہ دن کافروں پر بہت سخت ہو گا اس لئے اسے ’’ یوم عسیر‘‘ یعنی بڑا سخت دن کہتے ہیں۔ (13)…اس دن مجرم عذاب میں گھیرلئے جائیں گے اس لئے وہ ’’ یوم محیط‘‘ یعنی گھیر لینے والا دن ہے۔ (14)…اس دن کفار و مشرکین کو دردناک عذاب ہو گا اس اعتبار سے اسے ’’ یوم الیم‘‘ یعنی دردناک دن کہتے ہیں ۔ (15)…اس دن کی سختی کے اعتبار سے اسے ’’ یوم كبیر‘‘ یعنی بڑی سختی والا دن کہتے ہیں ۔ (16)…اس دن لوگ نادم اور مغموم ہوں گے اس اعتبار سے اسے ’’ یوم الحسرة‘‘ یعنی حسرت زدہ ہونے کا دن کہتے ہیں۔ (17)…قیامت کے دن روحیں اور اجسام ملیں گےزمین والے اور اسمان والے ملیں گے غیر خدا کی عبادت کرنے والے اور ان کے معبودملیں گےعمل کرنے والے اور اعمال ملیں گےپہلے اور اخری لوگ ملیں گےظالم اور مظلوم ملیں گے اور جہنمی عذاب دینے والے فرشتوں کے ساتھ ملیں گے ا س اعتبار سے اسے ’’یوم التـلاق‘‘ یعنی ملنے کا دن کہتے ہیں ۔ (18)…قیامت کے دن مختلف اعتبارات سے جنتیوں کی جیت اور کفار کی شکست ظاہر ہو جائے گی ا س لئے اسے ’’یوم التغابن‘‘ یعنی ہار ظاہر ہونے کا دن کہتے ہیں ۔ امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :جن امور کا قران مجید میں ذکر ہے ان میں سے ایک قیامت ہے اللہ تعالی نے اس کے مصائب کا ذکر کیا اور ا س کے بہت سے نام ذکر فرمائے تاکہ تم ا س کے ناموں کی کثرت سے اس کے معانی کی کثرت پر مطلع ہو جاوزیادہ ناموں کا مقصد ناموں اور القاب کو بار بار ذکر کرنا نہیں بلکہ اس میں عقلمند لوگوں کے لئے تنبیہ ہے کیونکہ قیامت کے ہر نام کے تحت ایک راز ہے اور ا س کے ہر وصف کے تحت ایک معنی ہے تو تجھے اس کے معانی کی معرفت اور پہچان حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔( احیاء علوم الدین کتاب ذکر الموت وما بعدہ الشطر الثانی صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ ۵ / ۲۷۵) نوٹ:یہاں جو نام ذکر کئے گئے ان کے علاوہ قیامت کے اور نام بھی قران مجید میں مذکور ہیں نیزقیامت کے مزید ناموں اور اس دن لوگوں کوپیش انے والے مصائب کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے احیاء العلوم جلد4کا مطالعہ فرمائیں ۔