Surah As Saffat Ayat 3 (37:3)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًا 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی قسم۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ان جماعتوں کی کہ قرآن پڑھیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فالتلیت ذكرا: پھر قران کی تلاوت کرنے والوں کی قسم۔} اس ایت میں بھی قران مجید کی تلاوت کرنے والوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو نماز میں تلاوت کرتے ہیں یا وہ علماء مراد ہیں جو اپنے درس اوربیانات میں قران کریم کی تلاوت کرتے ہیں یا وہ غازی مراد ہیں جو جہاد کرتے وقت قران پاک کی تلاوت کرتے ہیں ۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۳ ص۹۹۷ ملخصا) تلاوت قران بڑی اعلی عبادت ہے: اس ایت میں اللہ تعالی نے قران پاک کی تلاوت کرنے والوں کی قسم یاد فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت قران بڑی اعلی عبادت ہے لہذا اسے سفر وحضر کسی حال میں بھی نہ چھوڑا جائے۔ترغیب کے لئے یہاں اس سے متعلق دو احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم اپنی انکھوں کو عبادت میں سے ان کا حصہ دیا کرو۔عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عبادت میں سے انکھوں کا حصہ کیا ہےارشاد فرمایا: ’’دیکھ کرقران پاک کی تلاوت کرنا اس (کی ایات اور معانی) میں غورو فکر کرنا اور اس میں ذکر کئے گئے عجائبات پڑھتے وقت نصیحت حاصل کرنا۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی القراء ۃ من المصحف ۲ / ۴۰۸ الحدیث: ۲۲۲۲) (2)…حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے امتی کی افضل عبادت قران پاک کی تلاوت کرنا ہے۔( نوادر الاصول الاصل الخامس والخمسون والمائتان ۲ / ۱۰۴۱ الحدیث: ۱۳۴۳) اللہ تعالی ہمیں قران عظیم کی تلاوت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ {ان الهكم: بیشک تمہارا معبود۔} کفار مکہ تعجب کے طور پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ’’ اجعل الالهة الها واحدا -ان هذا لشیء عجاب‘‘(سورۃ ص:۵) ترجمہ کنزالعرفان: کیا اس نے بہت سارے خداوں کو ایک خدا کردیابیشک یہ ضروربڑی عجیب بات ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے مذکورہ بالا چیزوں کی قسم یاد فرما کر ان کی عظمت و شرافت بھی بیان کر دی اور بتوں کے پجاریوں کا رد کرتے ہوئے فرمادیا کہ اے اہل مکہ! بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہےاس کا کوئی شریک نہیں لہذا تم بتوں کو اپنا معبود قرار نہ دو۔حقیقی اعتبار سے اس ایت میں تمام انسانوں سے خطاب کیا گیا ہے۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۱۴ روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۴ ۷ / ۴۴۶ ملتقطا)