Surah As Saffat Ayat 62 (37:62)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ 62
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو یہ مہمان نوازی بہتر ہے یا زقوم کادرخت؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو یہ مہمانی بھلی یا تھوہڑ کا پیڑ۔
Tafseer (Urdu)
{اذلك خیر نزلا: تو یہ مہمان نوازی بہتر ہے۔} یعنی جنت کی نعمتیں لذتیں وہاں کے نفیس و لطیف کھانے اور مشروبات دائمی عیش اور بے ا نتہا راحت و سرور بہتر ہے یا جہنم میں ملنے والا زقوم کا درخت جو نہایت تلخ انتہائی بدبودار حد درجہ کا بدمزہ اور سخت ناگوار ہےاس سے دوزخیوں کی میزبانی کی جائے گی اور ان کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۶۲ ص۱۰۰۲ خازن والصافات تحت الایۃ: ۶۲ ۴ / ۱۹ ملتقطا) جہنمی درخت زقوم کی کیفیت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر زقوم کے درخت کا ایک قطرہ بھی دنیا والوں پر گرا دیا جائے تو ان کی زندگی برباد ہو جائے گی تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کا کھانا ہی زقوم ہو گا۔( ترمذی کتاب صفۃ جہنم باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار ۴ / ۲۶۳ الحدیث: ۲۵۹۴) اللہ تعالی ہمارا ایمان سلامت رکھے اور جہنم کے اس عذاب سے ہماری حفاظت فرمائےامین۔ {انا جعلنها: بیشک ہم نے اس درخت کو بنا دیا۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ بے شک ہم نے زقوم کے درخت کو اخرت میں کافروں کے لئے عذاب بنا دیا ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ بیشک ہم نے اس درخت کو دنیا میں کافروں کیلئے ازمائش بنادیا ہے ۔ جب کفار نے جہنم میں اس درخت کے بارے میں سنا تو وہ ا س کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے اوروہ فتنہ یہ کہ اس کے سبب قران اور نبوت پر طعن کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگ میں درخت ہو حالانکہ آگ تو درختوں کو جلاڈالتی ہے ۔یہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے جانتے نہیں کہ جو رب تعالی ایسا حیوان پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے جو اگ میں زندگی گزارتا اور اگ سے لذت حاصل کرتا ہے تو وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اگ میں درخت پیدا فرما دے اورا سے جلنے سے محفوظ رکھے ۔ (روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۶۳ ۷ / ۴۶۴-۴۶۵)