Surah As Saffat Ayat 75 (37:75)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک نوح نے ہمیں پکاراتو ہم کیا ہی اچھے جواب دینے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بے شک ہمیں نوح نے پکارا تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد نادىنا نوح: اور بیشک نوح نے ہمیں پکارا۔} یہاں سے اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے 7 واقعات بیان فرمائےسب سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان فرمایا اوراس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہحضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کا واقعہ حضرت الیاس علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہحضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ اور حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان فرمایا۔ان تما م واقعات کو بیان فرمانے سے مقصود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دینا اور ان کی امت میں سے کفر کرنے والوں کو عذاب سے ڈرانا ہے۔( صاوی الصافات تحت الایۃ: ۷۵ ۵ / ۱۷۴۲) جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کواپنی قوم کے ایمان قبول کرنے کی امید نہ رہی تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کی ’’انی مغلوب فانتصر‘‘(قمر:۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: میں مغلوب ہوں تو تومیرا بدلہ لے۔ اور عرض کی: ’’رب لا تذر على الارض من الكفرین دیارا(۲۶)انك ان تذرهم یضلوا عبادك و لا یلدوا الا فاجرا كفارا‘‘(نوح:۲۶ ۲۷) ترجمہ کنزالعرفان: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بیشک اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور یہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں گے جو بدکار بڑی ناشکری ہوگی۔ زیر تفسیر ایت میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایاکہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں پکارا اور ہم سے اپنی قوم پر عذاب نازل کرنے اور انہیں ہلاک کر دینے کی درخواست کی تو ہم کیا ہی اچھے جواب دینے والے ہیں کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام لیا کہ انہیں غرق کرکے ہلاک کردیا۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۷۵ ص۱۰۰۳ جلالین الصافات تحت الایۃ: ۷۵ ص۳۷۶ قرطبی الصافات تحت الایۃ: ۷۵ ۸ / ۶۶ الجزء الخامس عشر ملتقطا) {و نجینه و اهله: اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔} یعنی ہم نے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو اور جو ان پر ایمان لایا انہیں غرق ہونے سے نجات دی۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۷۶ ص۱۰۰۳)