Surah As Saffat Ayat 77 (37:77)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ 77
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا ذریته: اور ہم نے اسی کی اولاد کو کر دیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہی باقی رکھی تو اب دنیا میں جتنے انسان ہیں سب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل سے ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے کشتی سے اترنے کے بعد آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد اور ان کی بیویوں کے علاوہ جتنے مرد و عورت تھے سبھی اگے کوئی نسل چلائے بغیر فوت ہوگئے ۔ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اولادسے دنیا کی نسلیں چلیں ۔عرب فارس اور روم آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزند سام کی اولاد سے ہیں ۔ سوڈان کے لوگ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے حام کی نسل سے ہیں ۔ ترک اوریاجوج ماجوج وغیرہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحب زادے یافث کی اولاد سے ہیں ۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۷۷ ۴ / ۱۹-۲۰ مدارک الصافات تحت الایۃ: ۷۷ ص۱۰۰۳-۱۰۰۴ ملتقطا) {و تركنا علیه: اور ہم نے اس کی تعریف باقی رکھی۔} یعنی حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کی امتوں میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر جمیل باقی رکھا۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۷۸ ۴ / ۲۰) وفات کے بعد دنیا میں ذکر خیر رہنا اللہ تعالی کی رحمت ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ وفات کے بعد دنیا میں ذکر خیر رہنا اللہ تعالی کی رحمت ہے اور دنیا میں لوگوں کا اچھے الفاظ میں یاد کرنا کس قدر باعث رحمت ہے اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے لگایا جا سکتا ہے۔چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ گزرالوگوں نے اس کی تعریف کی توحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’واجب ہوگئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی۔ جب دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی مذمت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ واجب ہوگئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے ماں باپ اپ پر فدا ہوں ایک جنازہ گزرا اور لوگوں نے اس کی اچھائی بیان کی تو اپ نے تین بارفرمایا’’ واجب ہو گئی! اور ایک دوسرا جنازہ گزرالوگوں نے اس کی برائی بیان کی تو بھی اپ نے تین بار فرمایا: ’’واجب ہو گئی !تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس جنازے کی تم نے تعریف کی اس پر جنت واجب ہو گئی اور جس جنازے کی تم نے مذمت بیان کی ا س پر جہنم واجب ہو گئی ۔ تم زمین پر اللہ تعالی کے گواہ ہو تم زمین پر اللہ تعالی کے گواہ ہو تم زمین پر اللہ تعالی کے گواہ ہو۔( مسلم کتاب الجنائز باب فیمن یثنی علیہ خیر او شر من الموتی ص۴۷۳ الحدیث: ۶۰(۹۴۹)) {سلم: سلام ہو۔} یعنی فرشتے جنات اور انسان سب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام پر قیامت تک سلام بھیجتے رہیں گے۔( مدارک الصافات تحت الایۃ: ۷۹ ص۱۰۰۴) بچھو کے ڈنگ اور زہریلے جانوروں سے محفوظ رہنے کاوظیفہ: حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جو شخص شام کے وقت یہ ایت ’’سلم على نوح فی العلمین‘‘ پڑھ لیا کرے تو اسے بچھو نہیں کاٹے گا۔( التمہید لابن عبد البر سہیل بن ابی صالح ۸ / ۵۶۵ تحت الحدیث: ۶۱۱)اور بعض بزرگوں نے فرمایا کہ جو شخص یہ ایت صبح شام پڑھ لیا کرے وہ زہریلے جانوروں سے امن میں رہے اور اگر کشتی میں سوار ہوتے وقت پڑھ لے تو ڈوبنے سے محفوظ رہے۔