Surah As Saffat Ayat 90 (37:90)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو قوم کے لوگ اس سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے۔
Tafseer (Urdu)
{فتولوا عنه: تو قوم کے لوگ اس سے پھر گئے۔} جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ستاروں کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں تو اس وقت اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ اپنی عید گاہ کی طرف پھر گئے اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے ساتھ لے کر نہ گئے تاکہ ان کے اعتقاد کے مطابق اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بیماری اڑ کر انہیں نہ لگ جائے۔(روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۹۰ ۷ / ۴۷۰ خازن والصافات تحت الایۃ: ۸۹-۹۰ ۴ / ۲۰ ملتقطا) {فراغ الى الهتهم: پھر ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر چلے۔} جب قوم کے لوگ چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان سے نگاہ بچاتے ہوئے ا ن کے بت خانے کی طرف چلےپھر وہاں جاکر بتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے فرمایا:کیا تم اس کھانے کو نہیں کھاتے جو تمہارے سامنے وہ لوگ اس لئے رکھ گئے ہیں تاکہ برکت والاہو جائے ان بتوں کی تعدادکافی زیادہ تھیان میں سے بعض بت پتھر کے تھےبعض لکڑی کےبعض سونے کےبعض چاندی کے بعض تانبے کےبعض لوہے کے اور بعض سیسے کے بنے ہوئے تھےسب سے بڑا بت سونے کا بنا ہوا تھا اور اس پر جواہرات لگے ہوئے تھے ۔ (ابو سعود الصافات تحت الایۃ: ۹۱۴ / ۴۱۴ جمل الصافات تحت الایۃ: ۹۱ ۶ / ۳۴۱ ملتقطا) {ما لكم: تمہیں کیا ہوا۔} جب بتوں نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا: ’’تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے نہیں پھربھی بتوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ایااور وہ جواب ہی کیا دیتے کیونکہ وہ تو بے جان تھے۔