Surah Sad Ayat 21 (38:21)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِۘ-اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا تمہارے پاس ان دعویداروں کی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر مسجد میں آئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا تمہیں اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے۔
Tafseer (Urdu)
{و هل اتىك نبؤا الخصم: اور کیا تمہارے پاس ان دعویداروں کی خبر آئی۔} مشہور قول کے مطابق یہ انے والے فرشتے تھے جو حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی آزمائش کے لئے آئے تھےاور انہوں نے جو یہ کہا ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے‘‘اس کے بارے میں صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ ان کا یہ قول ایک مسئلہ کی فرضی شکل پیش کرکے جواب حاصل کرنا تھا اور کسی مسئلہ کے متعلق حکم معلوم کرنے کے لئے فرضی صورتیں مقرر کرلی جاتی ہیں اور معین اشخاص کی طرف ان کی نسبت کردی جاتی ہے تاکہ مسئلہ کا بیان بہت واضح طریقہ پر ہواور ابہام باقی نہ رہے۔ یہاں جو صورت مسئلہ ان فرشتوں نے پیش کی اس سے مقصود حضرت داؤد علیہ السلام کو توجہ دلانا تھی اس امر کی طرف جو انہیں پیش آیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آپ کی ننانوے بیبیاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دے دیا جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکا تھا لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزہ واقارب دوسرے کی طرف التفات کرنے والے کب تھے آپ کے لئے راضی ہوگئے اور آپ سے نکاح ہوگیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس مسلمان کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا آپ نے اس مسلمان سے اپنی رغبت کا اظہار کیا اور چاہا کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے دے وہ آپ کے لحاظ سے منع نہ کرسکا اور اس نے طلاق دے دی آپ کا نکاح ہوگیا اور اس زمانہ میں ایسا معمول تھا کہ اگر کسی شخص کو کسی کی عورت کی طرف رغبت ہوتی تو اس سے استدعا کرکے طلاق دلوا لیتا اوربعدعدت نکاح کرلیتا یہ بات نہ تو شرعا ناجائز ہے نہ اس زمانہ کے رسم وعادت کے خلاف لیکن شان انبیاء بہت ارفع و اعلی ہوتی ہے اس لئے یہ آپ کے منصب عالی کے لائق نہ تھا تو مرضی الہی یہ ہوئی کہ آپ کو اس پر آگاہ کیا جائے اور اس کا سبب یہ پیدا کیا کہ ملائکہ مدعی (یعنی دعوی کرنے والے) اور مدعا علیہ (یعنی جس کے خلاف دعوی کیا جائے) کی شکل میں آپ کے سامنے پیش ہوئے۔( خزائن العرفان ص تحت الایۃ: ۲۲ ص۸۴۰) بزرگوں سے خلاف شان واقع ہونے والے کام کی اصلاح کا طریقہ: اس سے معلوم ہوا کہ اگر بزرگوں سے کوئی لغزش صادر ہواور کوئی امر خلاف شان واقع ہوجائے تو ادب یہ ہے کہ معترضانہ زبان نہ کھولی جائے بلکہ اس واقعہ کی مثل ایک و اقعہ متصور کرکے اس کی نسبت سائلانہ و مستفتیانہ و مستفیدانہ سوال کیا جائے اور ان کی عظمت و احترام کا لحاظ رکھا جائے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل مالک ومولی اپنے انبیاء کی ایسی عزت فرماتا ہے کہ ان کو کسی بات پرآگا ہ کرنے کے لئے ملائکہ کو اس طریق ادب کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیتا ہے۔(خزائن العرفان ص تحت الایۃ: ۲۲ ص۸۴۰) نوٹ:اس ایت کی تفسیر میں جو بیان ہوا یہی حقیقت حال ہے بقیہ جو اسرائیلی و یہودی روایات میں اس بارے میں بکواسات مروی ہیں وہ سب جھوٹ اور افتراء ہیں ۔ طبعی خوف نبوت کے منافی نہیں : یاد رہے کہ دیوار کود کر انے والوں کو دیکھ کر حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کا گھبرانا فطری اور طبعی تھا کیونکہ کسی شخص کا عادت کے برخلاف بے وقت اور پہرہ توڑ کر اس طرح انا عام طور پر بری نیت سے ہی ہوتا ہے اورجو خوف اور گھبراہٹ طبعی ہو وہ نبوت کے منافی نہیں ہوتی ۔ گفتگو کے اداب کی خلاف ورزی ہونے پر کیاکرنا چاہئے دیوار کود کر انے والوں نے اتے ہی اپنی بات شروع کر دی اور حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام خاموشی کے ساتھ ان کی بات سنتے رہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص گفتگو کے اداب کی خلاف ورزی کرے تو اسے فورا ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے پہلے اس کی بات سن لینی چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے پاس اس کا کوئی جواز تھا یا نہیں اور اگر جواز نہ بھی ہو تو بھی ممکنہ حد تک صبر ہی کرنا چاہئے جیسا کہ حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اداب گفتگو کی خلاف ورزی ہونے پر در گرز کرتے اور صبر فرمایا کرتے تھے اور اس سلسلے میں حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک مرتبہ انتہائی سخت انداز میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کلام کیا لیکن حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نہ صرف خود حلم صبر اور عفوو درگزرکا مظاہرہ فرمایا بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو بھی ان کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔