Surah Sad Ayat 28 (38:28)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ٘-اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا ہم ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح کردیں گے؟ یا ہم پرہیزگاروں کو نافرمانوں جیسا کردیں گے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بے حکموں کے برابر ٹھہرادیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصلحت كالمفسدین فی الارض: کیا ہم ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح کردیں گے} ارشاد فرمایا کہ کیا ہم ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو زمین میں کفر اور گناہوں کے ذریعے فساد پھیلانے والوں کی طرح کردیں گے یا ہم پرہیزگاروں کو نافرمانوں جیسا کردیں گےہم ہر گز ایسانہیں کریں گے کیونکہ یہ بات حکمت کے بالکل خلاف ہے جبکہ جو شخص جزا کا قائل نہیں وہ ضرورفساد کرنے اور اصلاح کرنے والے کو فاسق وفاجر اور متقی پرہیزگار کو برابر قرار دے گا اور ان میں کوئی فرق نہ کرے گا کفار اس جہالت میں گرفتار ہیں ۔ اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ کفار قریش نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ آخرت میں جو نعمتیں تمہیں ملیں گی وہی ہمیں بھی ملیں گی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ نیک و بدمومن و کافر کو برابر کردینا حکمت کے تقاضے کے مطابق نہیں کفار کا یہ خیال باطل ہے۔( روح البیان ص تحت الایۃ: ۲۸ ۸ / ۲۴ مدارک ص تحت الایۃ: ۲۸ ص۱۰۲۰ خازن ص تحت الایۃ: ۲۸ ۴ / ۳۸ ملتقطا) نیک لوگ گناہگاروں جیسے نہیں : اس ایت سے معلوم ہوا کہ اچھے اعمال کرنے والے برے اعمال کرنے والوں کی طرح نہیں اور نیک لوگ گناہگاروں جیسے نہیں اب یہ ہم پر ہے کہ ہم نیکی کا راستہ اختیار کر کے اس کی جزا کے حق دار قرار پاتے ہیں یا برے اعمال کر کے ان کی سزا کے مستحق بنتے ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے: ’’ ان احسنتم احسنتم لانفسكم- و ان اساتم فلها‘‘(بنی اسرائیل:۷) ترجمہ کنزالعرفان: اگر تم بھلائی کرو گے تو تم اپنے لئے ہی بہتر کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تو تمہاری جانوں کیلئے ہی ہوگا۔ اورحضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس طرح کانٹے سے انگور حاصل نہیں کیے جا سکتے اسی طرح فاسق و فاجر لوگ متقی اور پرہیز گار لوگوں کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے نیکی اور برائی دو راستے ہیں ان میں سے جس راستے کو اختیار کرو گے ا س کے انجام تک پہنچ جاو گے۔( ابن عساکر من سمی بکنیتہ حرف المیم ابو المہاجر ۶۷ / ۲۶۰) اورحضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا اور حساب لینے والے خداکو کبھی موت نہیں ائے گی تم (نیک یا گناہگار) جیسے چاہو بن جاوجیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔( کتاب الجامع فی اخر المصنف باب الاغتیاب والشتم ۱۰ / ۱۸۹ الحدیث: ۲۰۴۳۰) اللہ تعالی ہمیں برے اعمال سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔