Surah Sad Ayat 31 (38:31)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب اس کے سامنے شام کے وقت ایسے گھوڑے پیش کئے گئے جوتین پاؤں پر کھڑے (اور) چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے ، بہت تیز دوڑنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجبکہ اس پر پیش کئے گئے تیسرے پہر کو کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سُم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائیے تو ہوا ہوجائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{اذ عرض علیه: جب اس کے سامنے پیش کئے گئے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ظہر کی نماز کے بعد جہاد کے لئے ایک ہزار گھوڑے پیش کئے گئے تاکہ وہ انہیں دیکھ لیں اور ان کے احوال کی کیفیت سے واقف ہو جائیں ان گھوڑں میں خوبی یہ تھی کہ وہ تین پاؤں پر کھڑے اور چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے جو ایک خوبصورت انداز تھا اور وہ بہت تیز دوڑنے والے تھے ۔انہیں دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:’’میں ان سے اللہ تعالی کی رضاء اور دین کی تقویت و تائیدکے لئے محبت کرتا ہوں میری ان کے ساتھ محبت دنیوی غرض سے نہیں ہے۔ پھرحضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ نظر سے غائب ہوگئےپھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ جب گھوڑے واپس پہنچے تو حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس ہاتھ پھیرنے کی چند وجوہات تھیں (1)… گھوڑوں کی عزت و شرف کا اظہار مقصود تھاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر مددگار ہیں ۔ (2)… امور سلطنت کی خود نگرانی فرمائی تا کہ تمام حکام مستعد رہیں ۔ (3)… آپ علیہ الصلوۃ والسلام گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض و عیوب کے اعلی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے۔ بعض لوگوں نے ان آیات کی تفسیر میں بہت سے غلط اقوال لکھ دیئے ہیں جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں اور وہ محض حکایات ہیں جو مضبوط دلائل کے سامنے کسی طرح قابل قبول نہیں اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ الفاظ قرآنی سے بالکل مطابق ہے۔( جلالین ص تحت الایۃ: ۳۱-۳۳ص۳۸۲ تفسیرکبیر ص تحت الایۃ: ۳۱-۳۳ ۹ / ۳۸۹-۳۹۲ ملتقطا)