Surah Sad Ayat 34 (38:34)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے سلیمان کو آزمایااور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیاپھر اس نے رجوع کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا اور اسکے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا پھر رُجوع لایا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد فتنا سلیمن: اور بیشک ہم نے سلیمان کوجانچا۔} علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’اس ایت میں اللہ تعالی نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ جس ازمائش میں حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو مبتلا کیا گیا وہ کیا تھی اور نہ ہی یہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے تخت پر جس بے جان جسم کو ڈالا گیا اس کا مصداق کون ہےالبتہ اس کی تفسیر کے زیادہ قریب وہ حدیث ہے جس میں حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے ان شا ء اللہ نہ کہنے کا ذکر ہے۔( البحرالمحیط ص تحت الایۃ: ۳۴ ۷ / ۳۸۱) وہ حدیث یہ ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا’’ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں آج رات میں اپنی 90 بیویوں کے پاس جاوں گاان میں سے ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والا سوار پیدا ہوگالیکن یہ فرماتے وقت زبان مبارک سے ان شا ء اللہ تعالی نہ فرمایا تو ایک عورت کے علاوہ کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی ناقص بچہ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’اس کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے ان شا ء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے ہاں لڑکے ہی پیدا ہوتے اور وہ راہ خدا میں جہاد کرتے ۔( بخاری کتاب الایمان والنذور باب کیف کانت یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۴ / ۲۸۵ الحدیث: ۶۶۳۹) نوٹ:ایک روایت میں ستر اور ایک روایت میں سو بیویوں کے پاس جانے کا بھی ذکر ہے۔