Surah Sad Ayat 6 (38:6)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ ۚۖ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان میں سے جو سردارتھے وہ( یہ کہتے ہوئے )چل پڑے کہ (اے لوگو! )تم بھی چلے جاؤ اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو بیشک اس بات میں اس کی کوئی غرض ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں کے سردار چلے کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بے شک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و انطلق الملا منهم: اور ان میں سے جو سردارتھے وہ چل پڑے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا جواب سن کر کفار قریش کے سردار ابوطالب کی مجلس سے آپس میں یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ اے لوگو!تم بھی یہاں سے چلے جاو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرنے پر ڈٹے رہو اور یہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو توحید کی بات کررہے ہیں اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض پوشیدہ ہے اور یہ بات تو ہم نے پچھلے دین یعنی اپنے اباو اجداد کے دین میں یا سب سے پچھلے دین دین عیسائیت میں بھی نہیں سنی کیونکہ عیسائی بھی تین خداوں کے قائل تھے جبکہ یہ تو ایک ہی خدا بتاتے ہیں یہ صرف ان کی خود سے بنائی ہوئی جھوٹی بات ہے۔