Surah Sad Ayat 66 (38:66)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے، عزت والا،بڑا بخشنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے صاحب ِعزت بڑا بخشنے والا۔
Tafseer (Urdu)
{رب السموت و الارض و ما بینهما: وہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے۔} امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت اور اس سے اوپر والی ایت میں اللہ تعالی نے اپنی 5صفات بیان فرمائی ہیں : (1)واحد۔(2)قہار۔(3)رب۔(4) عزیز۔(5)غفار۔ اللہ تعالی کی وحدانیت وہ چیز ہے کہ جس کے بارے میں اہل حق اور مشرکین کے درمیان اختلاف ہےچنانچہ اللہ تعالی نے اپنی صفت ’’قہار ‘‘بیان فرما کر اپنی وحدانیت پر استدلال فرمایااوریہ صفت اگرچہ اللہ تعالی کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے لیکن صرف اسے سن کر لوگوں کے دلوں میں شدید خوف بیٹھ جاتا اس لئے اللہ تعالی نے اس کے بعد اپنی تین وہ صفات بیان فرما دیں جو اس کی رحمت فضل اور کرم پر دلالت کرتی ہیں ۔ پہلی صفت:وہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔اس صفت کی کامل معرفت اس وقت حاصل ہو گی جب زمین و اسمان کی تخلیق اور عناصر اربعہ وغیرہ میں اللہ تعالی کی حکمت کے اثار میں غور و فکر کیا جائے اور یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل ہی نہیں لہذا جب تم ان چیزوں کی تخلیق میں اللہ تعالی کی حکمت کے اثار میں غور کرو گے تو اس وقت اللہ تعالی کے رب ہونے کو پہچان جاو گے۔ دوسری صفت: اللہ تعالی عزیز یعنی عزت اور غلبے والا ہے۔اس صفت کو بیان کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے رب ہونے کا سن کر کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ ہاں ! اللہ تعالی رب تو ہے لیکن وہ ہر چیز پر قادر نہیں اللہ تعالی نے اس بات کا جواب دے دیا کہ وہ عزیز ہے یعنی ہر ممکن چیز پر قادر ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے جبکہ اس پر کوئی چیز غالب نہیں ۔ تیسری صفت: اللہ تعالی بڑا بخشنے والاہے۔اس صفت کو بیان کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی یہ بات کہہ سکتا تھا کہ ہاں اللہ تعالی رب ہے اور وہ احسان فرمانے والا ہے لیکن وہ اطاعت گزاروں اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے والوں پر احسان فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالی نے اس کا جواب بھی ا س طرح دے دیا کہ جو شخص 70 سال تک اپنے کفر پر قائم رہے پھر اپنے کفر سے (سچی) توبہ کر لے تو میں گناہگاروں کے زمرے سے اس کا نام خارج کر دوں گا اور اپنے فضل و رحمت سے ا س کے تمام گناہوں پر پردہ ڈال دوں گا اور اسے نیک لوگوں کے مرتبے تک پہنچا دوں گا۔( تفسیرکبیر ص تحت الایۃ: ۶۶ ۹ / ۴۰۷)