Surah Az Zumar Ayat 16 (39:16)
The Troops · Juz 23 · Makki
لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌؕ-ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ-یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کیلئے ان کے اوپر سے آگ کے پہاڑ ہوں گے اور ان کے نیچے پہاڑ ہوں گے۔ اللہ اپنے بندوں کو اسی سے ڈراتا ہے،اے میرے بندو!توتم مجھ سے ڈرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو اے میرے بندو تم مجھ سے ڈرو۔
Tafseer (Urdu)
{لهم من فوقهم ظلل من النار: ان کیلئے ان کے اوپر سے آگ کے پہاڑ ہوں گے۔} اوپر نیچے اگ کے پہاڑ ہونے کا معنی یہ ہے کہ ہر طرف سے آگ انہیں گھیرے ہوئے ہو گی۔(مدارک الزمر تحت الایۃ: ۱۶ ص۱۰۳۴) کافروں کو ہر طرف سے اگ گھیرے ہوئے ہو گی: ایک اور مقا م پر کفار کے اس عذاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یوم یغشىهم العذاب من فوقهم و من تحت ارجلهم و یقول ذوقوا ما كنتم تعملون‘‘(عنکبوت:۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن عذاب انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا اور (اللہ) فرمائے گا: اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔ اورحضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالی اس بات کا ارادہ فرمائے گا کہ جہنمی اپنے ماسوا سب کوبھول جائیں تو ان میں سے ہر شخص کے لئے اس کے قد برابر اگ کا ایک صندوق بنایا جائے گا پھر اس پر اگ کے تالوں میں سے ایک تالا لگا دیا جائے گا پھر اس شخص کی ہر رگ میں اگ کی کیلیں لگا دی جائیں گی پھر اس صندوق کو اگ کے دوسرے صندوق میں رکھ کر اگ کا تالا لگا دیا جائے گا پھر ان دونوں کے درمیان اگ جلائی جائے گی تو اب ہر کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اگ میں نہ رہا۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’لهم من فوقهم ظلل من النار و من تحتهم ظلل‘‘ اور ارشاد فرمایا: ’’لهم من جهنم مهاد و من فوقهم غواش‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: ان کے لئے آگ بچھونا ہے اوران کے اوپر سے (اسی کا) اوڑھنا ہوگا۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد الشعبی ۸ / ۲۸۱ الحدیث: ۱۰) اللہ تعالی ہمارا ایمان سلامت رکھے اور جہنم کے عذابات سے ہماری حفاظت فرمائےامین۔ {ذلك یخوف الله به عباده: اللہ اپنے بندوں کو اسی سے ڈراتا ہے۔} یعنی اے لوگو! میں نے قیامت کے دن نقصان اٹھانے والوں کے جس عذاب کی تمہیں خبر دی ہے اللہ تعالی تمہیں اس عذاب سے ڈراتا ہے تاکہ تم اس کے خوف سے گناہوں سے بچو اور کفر چھوڑ کر اللہ تعالی پر ایمان لے اواس کے رسول کی تصدیق کر کے اوراحکامات و ممنوعات میں اس کی پیروی کر کے اخرت کے عذاب سے نجات پا جاو۔اے میرے بندو!میں نے جو چیزیں تم پر فرض کیں ان کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کے معاملے میں مجھ سے ڈرو اور وہ کام نہ کرو جو میری ناراضی کا سبب ہو۔( تفسیر طبری الزمر تحت الایۃ: ۱۶ ۱۰ / ۶۲۴ مدارک الزمر تحت الایۃ: ۱۶ ص۱۰۳۴)