Surah Az Zumar Ayat 22 (39:22)
The Troops · Juz 23 · Makki
اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے) تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگ دل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{افمن شرح الله صدره للاسلام: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالی نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اسے حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف سے یقین و ہدایت پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جس کے دل پر اللہ تعالی نے مہر لگا دی تو وہ ہدایت قبول نہیں کرتا ۔( خازن الزمر تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۵۳) ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فمن یرد الله ان یهدیه یشرح صدره للاسلام-و من یرد ان یضله یجعل صدره ضیقا حرجا كانما یصعد فی السمآء-كذلك یجعل الله الرجس على الذین لا یؤمنون‘‘(انعام:۱۲۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔اسی طرح اللہ ایمان نہ لانے والوں پر عذاب مسلط کردیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب یہ آیت ’’افمن شرح الله صدره للاسلام‘‘ تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سینے کا کھلنا کس طرح ہوتا ہےارشاد فرمایا کہ جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو وہ کھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی:اس کی کیا علامت ہے ارشاد فرمایا: ’’ہمیشگی کے گھر (یعنی جنت) کی طرف متوجہ ہونا اور دھوکے کے گھر (یعنی دنیا سے) دور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے پہلے آمادہ ہونا۔( الزہد الکبیر للبیہقی الجزء الخامس ص۳۵۶ الحدیث: ۹۷۴) {فویل للقسیة قلوبهم من ذكر الله: تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔} یعنی ان کے لئے خرابی ہے جن کے پاس اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے یا اس کی ایات کی تلاوت کی جائے تو وہ پہلے سے زیادہ سکڑ جائیں اور ان کے دلوں کی سختی زیادہ ہو جائے یہی لوگ جن کے دل سخت ہو گئے حق سے بہت دور اور کھلی گمراہی میں ہیں۔( ابوسعود الزمر تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۴۶۵ ملخصا) اللہ تعالی کے ذکر سے مومنوں کے دل نرم ہوتے اور کافروں کے دلوں کی سختی بڑھتی ہے: علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنی مشہور تصنیف تفسیر خازن میں فر ماتے ہیں ’’ نفس جب خبیث ہوتا ہے تو اسے حق قبول کرنے سے بہت دوری ہوجاتی ہے اور اللہ تعالی کا ذکر سننے سے اس کی سختی اور دل کا غباربڑھتا ہے اور جیسے سورج کی گرمی سے موم نرم ہوتا ہے اور نمک سخت ہوتا ہے ایسے ہی اللہ تعالی کے ذکر سے مومنین کے دل نرم ہوتے ہیں اور کافروں کے دلوں کی سختی اور بڑھتی ہے۔( خازن الزمر تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۵۳) اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جنہوں نے اللہ تعالی کے ذکر سے روکنا اپنا شعار بنالیا ہے وہ صوفیوں کے ذکر کو بھی منع کرتے ہیں نمازوں کے بعد اللہ کا ذکر کرنے والوں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں ایصال ثواب کے لئے قرآن کریم اور کلمہ پڑھنے والوں کو بھی بدعتی بتاتے ہیں اور ان ذکر کی محفلوں سے بہت گھبراتے اور دور بھاگتے ہیں اللہ تعالی انہیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالی کے ذکر کے علاوہ زیادہ گفتگو دل کی سختی ہےاور لوگوں میں اللہ تعالی سے زیادہ دور وہ ہو تا ہے جس کا دل سخت ہو۔(ترمذی کتاب الزہد ۶۲-باب ۴ / ۱۸۴ الحدیث: ۲۴۱۹)