Surah An Nisa Ayat 101 (4:101)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ﳓ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بے شک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا ضربتم فی الارض:اور جب تم زمین میں سفر کرو ۔} اس ایت میں نماز کو قصر کرنے کا مسئلہ بیان کیا گیاہے یعنی سفر کی حالت میں ظہر عصر اور عشاء میں چار فرضوں کی بجائے دو پڑھیں گے۔ نماز قصر کے بارے میں 4مسائل: یہاں ایت کی مناسبت سے نما ز قصر سے متعلق 4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں (1)…اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے۔ (2)… کافروں کا خوف قصر کے لیے شرط نہیں چنانچہ حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی ا للہ تعالی عنہ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں ( پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں ) اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا ۔ اس پر حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ عزوجل کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو۔ (مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا باب صلاۃ المسافرین وقصرہا ص۳۴۷ الحدیث: ۴(۶۸۶)) آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لیے آیت میں اس کا ذکر ہوا ہے ورنہ خوف اور اندیشہ کا ہونا کوئی شرط نہیں ہے نیز صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے ۔ (3)…جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی کم سے کم مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں۔ ہمارے زمینی میدانی سفر کے اعتبار سے فی زمانہ اس کی مسافت بانوے کلومیٹر بنتی ہے ۔ (4)… قصر صرف فرضوں میں ہے سنتوں میں نہیں اور سفر میں سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضر کی نماز اور سفر کی نماز کو فرض فرمایا تو ہم حضر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی اور سفر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی۔ (ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا باب التطوع فی السفر ۱ / ۵۶۱ الحدیث: ۱۰۷۲) نماز قصر کے بارے میں مزید مسائل جاننے کے بہار شریعت حصہ4 سے ’’نماز مسافر کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔