Surah An Nisa Ayat 107 (4:107)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاﳐ 107
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تجادل عن الذین یختانون: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا} گزشتہ ایت میں اور اس ایت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مرتکب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عزوجل کے اس فرمان کو بغور پڑھیں نیز اللہ تعالی کے ان فرامین پر غور کریں چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: و لا تلبسوا الحق بالباطل و تكتموا الحق و انتم تعلمون(۴۲)(بقرہ:۴۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ۔ اور ارشاد فرمایا: و لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل و تدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فریقا من اموال الناس بالاثم و انتم تعلمون(بقرہ:۱۸۸) ترجمہ کنزالعرفان:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔ اور ارشاد فرمایا: و من یغلل یات بما غل یوم القیمة-ثم توفى كل نفس ما كسبت و هم لا یظلمون(ال عمران:۱۶۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرائے گاجس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داود کتاب الجہاد باب النہی عن الستر علی من غل ۳ / ۹۳ الحدیث: ۲۷۱۶) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے ۔ (تاریخ بغداد ۲۶۲-محمد بن احمد بن محمد بن جابر۔۔۔ الخ ۱ / ۳۶۰) یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے۔