Surah An Nisa Ayat 108 (4:108)
The Women · Juz 5 · Madani
یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا 108
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے حالانکہ اللہ اُس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو ایسی بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے اور اللہ ان کے پاس ہے جب دل میں وہ بات تجویزتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ یستخفون من الناس:وہ لوگوں سے شرماتے ہیں۔} یعنی طعمہ اور ا س کی قوم کے افراد لوگوں سے حیا کرنے کی بنا پر اور ان کی طرف سے نقصان پہنچنے کے ڈر سے ان سے تو شرماتے اور چھپتے ہیں لیکن اللہ تعالی سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے اور اس کے عذاب سے ڈرا جائے کیونکہ وہ ان کے احوال کو جانتا ہے اور اس سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں حتی کہ وہ ان کے ا س عمل سے بھی واقف ہے جب وہ اپنے دل میں ایسی بات تجویز کرتے ہیں اور رات میں ایسی بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ تعالی کوپسند نہیں جیسے بے گناہ پر الزام لگانا جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا اور اللہ تعالی ان کے تمام ظاہری و باطنی تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ان کا کوئی عمل اللہ تعالی کے علم سے باہر نہیں۔(جلالین النساء تحت الایۃ: ۹۷ ص۸۶ روح البیان النساء تحت الایۃ: ۱۰۸ ۲ / ۲۷۹-۲۸۰ ملتقطا) تقوی و طہارت کی بنیاد : یہ ایت مبارکہ تقوی و طہارت کی بنیاد ہے۔ اگر انسان یہ خیال رکھے کہ میرا کوئی حال اللہ عزوجل سے چھپا ہوا نہیں تو گناہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔ قران پاک میں جگہ جگہ اسی چیز کے ذریعے لوگوں کو گناہوں سے رکنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے۔ اس جملے کا اگر کوئی شخص مراقبہ کرلے اور اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھالے تو گناہوں کا علاج نہایت اسان ہوجائے گا۔ حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :میں تین سال کی عمر کا تھا کہ رات کے وقت اٹھ کر اپنے ماموں حضرت محمد بن سوار رحمۃاللہ تعالی علیہ کو نماز پڑھتے دیکھتا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس اللہ تعالی کو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ہے میں نے پوچھا :میں اسے کس طرح یاد کر وں اپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: جب لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو: ’’اللہ معی اللہ ناظر الی اللہ شاہد‘‘اللہ عزوجل میرے ساتھ ہے اللہ عزوجل مجھے دیکھ رہا ہے اللہ تعالی میرا گواہ ہے۔ حضرت سہل رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں) میں نے چند راتیں یہ کلمات پڑھے اور پھر ان کو بتایا انہوں نے فرمایا: ہر رات سات مرتبہ یہ کلمات پڑھو میں نے ایسا ہی کیا اور پھر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ہر رات گیارہ مرتبہ یہ کلمات پڑھو۔ میں نے اسی طرح پڑھا تو مجھے اپنے دل میں اس کی لذت معلوم ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں نے کہا: میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اور قبر میں جانے تک ہمیشہ پڑھنا یہ تمہیں دنیا و اخرت میں نفع دے گا۔ میں نے کئی سال تک ایسا کیا تو میں نے اپنے اندر اس کا مزہ پایا پھر ایک دن میرے ماموں نے فرمایا: اے سہل! اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ ہو اسے دیکھتا ہو اور ا س کا گواہ ہو کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے تم اپنے اپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔( احیاء علوم الدین کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق۔۔۔ الخ بیان الطریق فی ریاضۃ الصبیان۔۔۔ الخ ۳ / ۹۱)