Surah An Nisa Ayat 109 (4:109)
The Women · Juz 5 · Madani
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا- فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا 109
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(اے لوگو!) سن لو، یہ تم ہی ہو جودنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے تو قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گایا کون ان کا کارساز ہوگا؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسنتے ہو یہ جو تم ہو دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{هانتم هؤلآء جدلتم عنهم فی الحیوة الدنیا:سن لو یہ تم ہی ہو جودنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے۔} یہاں عام لوگوں سے اور بطور خاص طعمہ کی قوم سے خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو! سن لو تم جواج دنیا کی زندگی میں ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑتے ہو توجب قیامت کے دن خیانت کرنے والا مجرم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور اللہ عزوجل اس کے عذاب کا فیصلہ فرما دے گاتو اس وقت کون ان کی طرف سے اللہ عزوجل سے جھگڑے گا یا کون ان کا وکیل و کارساز ہوگا یعنی جیسے دنیا میں تم فیصلہ کرنے والے کو دھوکہ دیدیتے ہو اس طرح دھوکہ دینے کے لئے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں جھگڑنا ناممکن ہے کہ اللہ عزوجل سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ شفاعت کا ثبوت: یاد رہے کہ اس ایت میں شفاعت کا انکار نہیں کیونکہ محبوبوں کی شفاعت اور چھوٹے بچوں کا اپنے ماں باپ کی بخشش کے لئے رب تعالی سے ناز کے طور پر جھگڑنا ایات و احادیث سے ثابت ہے ۔اللہ عزوجل فرماتا ہے: من ذا الذی یشفع عنده الا باذنه (سورہ بقرہ: ۲۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں شفاعت کرسکے۔ اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن جب کچے بچے کے ماں باپ کو اللہ تعالی جہنم میں داخل کرے گاتو وہ اپنے رب عزوجل سے جھگڑے گا۔ فرمایا جائے گا ’’ایھا السقط المراغم ربہ‘‘ اے کچے بچے اپنے رب عزوجل سے جھگڑنے والے ! اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا تب وہ انہیں اپنے ناف سے کھینچے گا حتی کہ انہیں جنت میں داخل کردے گا۔ (ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء فیمن اصیب بسقط ۲ / ۲۷۳ الحدیث: ۱۶۰۸) مگر یہ جھگڑا رب کریم کی بارگاہ میں ناز کا ہو گانہ کہ مقابلے کا۔